مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 28
از روئے قرآن مجید کوئی خلیفہ باہر سے نہیں آسکتا قرآن مجید اس بات پر روشن گواہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کوئی خلیفہ باہر سے نہیں آسکتا اور جو خلفاء بھی ہوں گے وہ ان خلفاء سے جو امت محمدیہ سے پہلے گذر چکے ہیں مشابہت اور مماثلت رکھیں گے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ سورہ ٹور میں فرماتا ہے:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سوره نور رکوع ۷) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لاکر اعمال صالحہ بجالانے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنا یا جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے خلفاء امت محمدیہ میں سے ہی ہونے والے ہیں اور یہ خلفاء پہلے خلفاء کے مشابہ اور ان کے مثیل ہوں گے۔جس پر كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کے الفاظ دال ہیں نہ یہ کہ کوئی پہلا نبی وخلیفہ امت محمدیہ میں خلیفہ ہوکر آجائے گا۔اس آیت میں امت محمدیہ کے خلفاء مشتبہ اور انبیائے بنی اسرائیل جو اُن سے پہلے گذر چکے ہیں مشبہ یہ ہیں کیونکہ وہ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهُ نَہ کی حدیث کے مطابق امت محمدیہ سے پہلے خلفاء ہیں۔پس امت محمدیہ کے خلفاء انبیائے بنی اسرائیل کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اُن کے مثیل تو ہو سکتے ہیں لیکن انبیائے بنی اسرائیل جو سب مشتبہ یہ ہیں ان میں سے کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آکر آپ کا خلیفہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح مشتبہ اور مشبہ یہ کا عین ہونالا زم آتا ہے جو محال ہے کیونکہ مشتبہ ہمیشہ مشتبہ یہ کا غیر ہوتا ہے۔پس اس آیت کی روشنی 28