مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 11 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 11

وسلم کی شریعت کو منسوخ کرتی ہو۔(۴) ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِي ( كنوز الحقائق في حديث خير الخلائق ) گر حضرت ابوبکر اس امت میں سب سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ آئندہ کوئی نبی (امت میں ) ہو جائے تو اس سے افضل نہیں ہونگے ) (۵) ایک تیسری حدیث میں وارد ہے:۔ابو بَكْرِ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدِى إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيُّ (کنز العمال جلد ۹ صفحه ۱۳۸ وطبرانی و ابن عدی فی الکامل بحوالہ جامع الصغیر للسیوطی صفحه ۵) کہ حضرت ابوبکر میرے بعد سب انسانوں سے بہتر ہیں بجز اس کے کہ آئندہ کوئی نبی ہو۔ان دونوں حدیثوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِی کے الفاظ استعمال فرما کر نبی ہونے کا امکان قرار دیا ہے ورنہ آپ یہ الفاظ کبھی استعمال نہ فرماتے۔جن سے امت میں امکان نبی ثابت ہوتا ہے ان دونوں آیتوں اور تینوں حدیثوں نے انقطاع نبوت کے متعلق مودودی صاحب کی پیش کردہ آیت خاتم النبیین اور احادیث کی تشریح کر دی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع اور مستقل نبی نہیں آ سکتا۔ہاں امتی نبی آسکتا ہے۔اب مودودی صاحب ان آیات اور احادیث کے پیش نظر اپنی پوزیشن پر غور فرمائیں کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے امتی نبی کا انکار کر کے کس طرح اپنے رسالہ ختم نبوت کے ریکارڈ کو برسر عدالت خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کی جرات کر سکیں گے۔اور اگر وہ یہ جرأت کریں تو کیا خدا تعالیٰ انہیں آیات و احادیث مندرجہ بالا کے رو سے ملزم نہیں کر سکے گا ؟ 11