مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 10 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 10

النبتين ۵ھ میں نازل ہو چکی تھی۔گویا خاتم النبیین کی آیت کے نزول کے قریباً پانچ سال بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کا نبی نہ بننا اس کی موت کی وجہ سے ہے نہ کہ آیت خاتم النبیین کے نزول کی وجہ سے۔اگر آپ کے بعد آپ کے تابع نبی ہونے میں آیت خاتم النبیین روک ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ کبھی نہ فرماتے کہ ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا بلکہ یہ فرماتے کہ اگر ابراہیم زندہ بھی رہتا تو ہی نہ ہوسکتا تھا کیونکہ اس میں آیت خاتم النبیین روک ہے۔امام علی القاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کی تشریح میں خاتم النبیین کے معنوں کی دو شرطوں کے ساتھ تعین کر دی ہے۔اول یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔دوم یہ کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی بھی نہیں آسکتا جو آپ کی اُمت سے باہر ہو۔گو یا امام علی القاری علیہ الرحمتہ کے نزدیک آیت خاتم النبیین صرف غیر مسلموں میں سے کسی کے نبی بن جانے کو روکتی ہے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے امت محمدیہ میں سے کسی کے نبی ہو جانے کو۔حديث لا نبی بعدی کی تشریح میں حضرت امام علی القاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :۔حَدِيثُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِي بَاطِلُ لَا أَصْلَ لَهُ نَعَمْ وَرَدَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي مَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُثُ بَعْدَهُ نَبِيُّ بِشَرْعِ يَنْسَخُ شَرْعَهُ الاشاعة في الشراط الساعة ، صفحه ۲۲۶ نیز المشرب الوردی فی مذہب المہدی مطبوعہ حافظ عبدالرحمن ماڈل ٹاؤن لاہور صفحہ ۶۴) ترجمہ : یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی وحی نہیں باطل ہے۔اس کی کوئی اصلیت نہیں۔ہاں حدیث میں لا نبی بعدی کے الفاظ آئے ہیں۔معنی اس کے علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہو گا جو ایسی شریعت لائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ 10