مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 95 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 95

کی تھی۔اب تیسری مرتبہ ضمیمہ تفسیر سورہ احزاب میں ان پر یہ افتراء باندھ رہے ہیں حالانکہ ان کی عبارت سے ایسے شخص کی تکفیر کا مضمون اخذ کر نا الاقتصاد کی عبارتوں کی رُوح کو کچلنے اور اس صداقت کا خون کرنے کے مترادف ہے جسے امام غزالی علیہ الرحمۃ الاقتصاد میں پیش کر رہے ہیں کہ تاویل کرنے والے کو نص کا مکذب اور کا فرقرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ وہ اجماع کے منکر کو کافر قرار دینا چاہتے ہیں کیونکہ اجماع کے حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔امام غزالی علیہ الرحمہ تو الاقتصاد میں یہ بیان فرما رہے ہیں کہ ایسے لوگ کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل ہونے کی وجہ سے کا فرقرار دیا جانے سے محفوظ ہوں گے ان کے نزدیک کلمہ لا الہ الا اللہ کے قائل مسلمان کو مذکورہ وجوہ سے کا فرقرار دینا بہت بڑا گناہ ہے۔واضح رہے کہ جماعت احمدیہ خاتم النبیین کے حقیقی معنے ختم کے لغوی معنے تاثیر الشئی اور اثر حاصل کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء کے ظہور میں موثر ذریعہ مان کربلا تاویل و تخصیص خاتم النبیین یقین کرتی ہے اور یہی معنے حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اصل اور مقدم معنے قرار دیئے ہیں اور آخری نبی ہونے کو ان معنی کے لوازم میں سے قرار دیا ہے۔اب اگر خاتم النبیین کے معنے مجازی لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعلی الاطلاق آخری نبی قرار دیا جائے اور لانبی بعدی میں لنفی جنس کا قرار دے کر یہ معنے کئے جائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس قسم کا کوئی نبی نہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کے جواز کے لئے ان ہر دو نصوص میں تاویل یا تخصیص کے بغیر چارہ نہیں ہوگا اگر یہ قول درست ہو کہ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی میں تاویل و تخصیص نہیں تو حضرت عیسیٰ نبی اللہ علیہ السّلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کا جواز نکالنا ان نصوص کی تاویل و تخصیص ہی ہوگا لہذا اس فتوی کی زد میں مودودی صاحب بھی آتے ہیں جو 95