مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 92
اگر اس اجماع کو حجت قرار دیا جائے تو پھر رسول کی آمد کو جائز قرار دینے والے کو فوراً کا فر قرار دینا پڑے گا۔مگر مودودی صاحب نے اس عبارت کا ایسا ترجمہ کر دیا ہے جس کا مفہوم یہ بن جاتا ہے کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے ایسے شخص کی تکفیر میں تامل کو جائز نہیں رکھا اور انہوں نے یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ وہ شخص ایسا کہنے سے بلا تامل کا فر ہو جائے گا۔پس فیبعد التوقف فی تکفیرہ کہ اس کی تکفیر میں تامل نہیں کیا جاسکتا اصل سیاق کلام کے لحاظ سے درست ترجمہ نہیں بلکہ تحریف معنوی کا ارتکاب ہے امام غزالی کا مطلب یہ ہے کہ اجماع کو حجت قرار دینے کی صورت میں ایسے شخص کو فوراً کا فرقرار دے دیا جائے گا حالانکہ یہ امر شنیع اور خرابی ہے جو اجماع کو حجت قرار دینے سے پیدا ہوگی اور ایسے شخص کی تکفیر پر منتج ہو گی حالانکہ ایسے شخص کو کا فرقرار دینا مناسب نہیں کیونکہ اجماع کا حجت ہونا خود مشتبہ ہے۔اس عبارت کے بعد امام غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :- ومستبد استحالة ذالك عند البحث يَسْتَمِدُّ من الاجماع لا محالة فان العقل لا يحيله وما نقل فيه مِن قَوْلِهِ لا نبى بَعْدَى وَمِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ فَلَا يَعْجِزُ هذا القائِلُ عن تأويله ،، اس عبارت کا ترجمہ سیاق کے لحاظ سے یہ ہے کہ تکفیر میں توقف کو اس موقعہ پر محال قرار دینے پر اصرار کرنے والا بحث کے وقت ناچارا جماع سے حجت پکڑے گا کیونکہ عقل تو رسول کا آنا محال قرار نہیں دیتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لا نبی بعدی اور اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کی تاویل سے وہ شخص جو رسول کی آمد کے جواز کا قائل ہے عاجز نہیں ہوگا۔مودودی صاحب نے اس عبارت کا سیاق اپنی تحریف سے بدل دینے کی وجہ سے اس جگہ 92