خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 83

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 83 نبی کرم ﷺ کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء سے ان کی گردنوں کے غم تو ڑ ڈالے اور ان کی چال کی سب کجیوں کو ہموار کیا یہاں تک کہ وہ اصیل گھوڑوں کی طرح اپنے مالک کے ادنی اشاروں پر سر تسلیم خم کئے صراط مستقیم پر دوڑنے لگے۔اس مرد میدان سے پہلے کبھی کسی نبی کا دائرہ اصلاح اتنا وسیع نہ ہوا تھا کہ کل عالم پر محیط کر دیا گیا ہو بلکہ وہ تو اپنی بساط کے مطابق چھوٹی چھوٹی قوموں یا قبیلوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے کسی کے سپرد بنی اسرائیل کی بھیڑوں کی گلہ بانی کی گئی تو کوئی ملک ہند کی گائیوں کی رکھوالی کے لئے آیا۔کوئی چین کا نبی بنا تو کسی کو ملک فارس کا رسول بنایا گیا لیکن ہمارا آقا کل دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوا۔ہاں ایک ایسی دنیا کی اصلاح کے لئے جس کی تری بھی فساد میں ڈوبی ہوئی تھی اور خشکی بھی۔آپ سے پہلے ابنیاء تو بعض مخصوص برائیوں کو مٹانے کے لئے آئے تھے کسی کا جہاد شرک کے خلاف تھا تو کوئی سنگدلی اور ظاہر پرستی کے خلاف رشد کی تلوار اٹھانے والا تھا۔کوئی کم تولنے والوں اور مال میں خیانت کرنے والوں کے ناپ تول درست کرنے کے لئے آیا تو کسی کو یہ خدمت سپرد ہوئی کہ وہ عفت اور پاکیزگی کے قیام کے لئے کوشاں ہو۔ہمارے آقا کے سپر دیگر یہ سب کام تھے۔وہ ایک ایسی دنیا کی طرف مبعوث ہوا جو سرتا پا برائیوں اور گناہوں میں ملوث دنیا تھی اور کوئی ایک بدی بھی ایسی نہ تھی جو اس میں نہ پائی جاتی ہو۔۱۳ سال کی قلیل مدت حضور کو دی گئی کہ ان سب مخالف قوتوں پر غالب آکر تمام بدیوں کا خاتمہ کر دیں۔بدی کے بدلے میں نیکی ، ہر فتح کے بدلے میں ایک حسن ان وحشیوں کو عطا کریں پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اعلان حق کے ساتھ ہی آپ کے ہاتھوں وہ تبدیل شدہ روحانی انسان پیدا ہونے شروع ہو گئے جن کی تخلیق کا کام اللہ تعالیٰ کے اذن سے آپ کو سونپا گیا تھا۔ہجرت حبشہ کے موقع پر حضور ﷺ کی بعثت کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے اس وقت آپ کے کاموں کا جو تذکرہ حضرت جعفر نے نجاشی کے دربار میں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے تھوڑے عرصہ میں ہی آنحضور اللہ اپنے غلاموں کے اندر ایک عظیم الشان انقلاب پیدا فرما چکے تھے حضرت جعفر نے فرمایا: ”اے شہنشاہ ذی جاہ! ہم لوگ اس سے پہلے جاہلیت کے اوہام میں بری طرح مبتلا تھے، بتوں کی پرستش ہمارا مذہب تھا اور تعظیم عناصر ہمارا مسلک۔