خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 5
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 5 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء دیانت کا معیار گر چکا ہے، ہمارا تقویٰ کا معیار گر چکا ہے، ہمارا سچ کا معیار گر چکا ہے اور ایسے ایسے خطرناک مرضوں نے ہمارے اندر پنجے گاڑ لئے ہیں کہ جن مرضوں کے ہوتے ہوئے کوئی جماعت صحت مند طریق پر ترقی نہیں کر سکتی۔نفاق کی لعنت بھی ہم میں داخل ہو چکی ہے۔کئی ایسی جماعتیں ہیں جن کو دیکھ کر دل کٹ جاتا ہے یہ دیکھ کر کہ نفاق کے کلہاڑوں نے ان کے دلوں کو دو نیم کر کے رکھ دیا ہے۔خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہوا کرتا ہے الہی جماعتوں پر کہ وہ ان کے دلوں کو محبت سے باندھ دیا کرتا ہے جیسا کہ ابھی آپ نے قرآن کریم کی تلاوت میں سنا تھا کہ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا ( آل عمران : ۴۰۱) کہ اے مسلمانو ! اس نے تم پر اتنا احسان کیا کہ تمہارے دلوں کو محبت کے دھاگوں سے مضبوط رسوں سے جکڑ دیا اور تم ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو گئے۔تو یہ خدا تعالیٰ کا بڑا بھاری احسان ہوا کرتا ہے اور دراصل تمام الہی جماعتیں ، مذہبی جماعتیں اسی محبت کے سہارے بڑھا کرتی ہیں، اسی محبت کے سہارے پنیا کرتی ہیں اور پھیلا کرتی ہیں اور ایک جان ہوکر ، ایک دل ہوکر ، ایک قبلہ کی طرف کھڑے ہو کر کام کیا کرتی ہیں اور جب نفاق کے دانت ان محبت کے رسوں کو بودا کر دیتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ جب یہ سیمنٹ بودا ہو جاتا ہے، کٹ جاتا ہے جس طرح بعض دفعہ موسلا دھار بارش بعض مکانوں میں بڑے بڑے گھاؤ ڈال دیا کرتی ہے اور سڑکوں پر گہرے شگاف پڑ جایا کرتے ہیں اسی طرح جب زمانے کے مصائب، زمانے کے ستم اور شیطانی طاقتیں ان محبت کے رسوں کو بودا کر دیتی ہیں، اس سیمنٹ کو کھوکھلا کر دیتی ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی شاندار مذاہب کی عمارتیں دھڑام سے زمین پر آرہتی ہیں اور ملبوں کا ڈھیر بن جایا کرتی ہیں۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر وہ محبت قائم کریں، وہ خلوص قائم کریں جس خلوص اور محبت کو قائم کرنے کے لئے انبیاء دنیا میں آیا کرتے ہیں۔جس خلوص اور محبت کے ذریعہ ہی انبیاء کی جماعتیں ترقی کیا کرتی ہیں لیکن نہایت حسرت اور افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بہت سی جماعتیں ہیں جو دو نیم ہو چکی ہیں ہماری بہت سی جماعتیں ہیں جن کے کئی حصے بٹ چکے ہیں۔میں نے ایک ایسی جماعت بھی دیکھی اور میں اپنے غم کا اظہار نہیں کر سکتا اس جماعت کے متعلق کہ جس جماعت کے لوگوں کے ایک حصہ نے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنی ترک کر دی تھی صرف اس لئے کہ