خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 74

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 74 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء خادم دین محمد کی بیماری بھی جس کی ساری عمر اور عمر کے سارے دن رات خدمت اسلام ہی میں کٹے ہوں ان کے نزدیک ویسا ہی عذاب الہی ہے جیسا ایک ایسے شخص کی بیماری جو عمر بھر دین محمد کی دشمنی میں جلتا رہا ہو، جس کی دردناک ہلاکت کی اذن الہی کے مطابق پہلے سے خدا کے ایک برگزیدہ رسول نے خبر دے رکھی ہو اور اسے اسلام کی سچائی کا ایک معیار قرار دیتے ہوئے اخبارات ورسائل کے ذریعہ خوب مشتہر کیا ہو۔حضرت مصلح موعود کی بیماری کو ڈوٹی کی بیماری سے تشبیہ دینے والے ظالموں کا دھیان کبھی اس طرف بھی منتقل ہوا ہے کہ وہ یہ ناپاک کوشش شروع کرتے ہی خود کس کے مشابہ اور کس کے مثیل بن جاتے ہیں؟ کیا وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک بد بخت دشمن اسلام لیکھرام بھی تو حضرت اقدس علیہ السلام کی اولاد کے متعلق وہی کچھ کہتا تھا جو آج یہ معاندین کہ رہے ہیں؟ اس کو بھی آپ کی اولا دایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔وہ بھی زبان حسد ایسے ہی دراز کیا کرتا تھا، وہ بھی بغض وحسد کی آگ میں ایسے ہی جلا کرتا تھا جیسے یہ آج جل رہے ہیں۔آج اگر وہ زندہ ہوتا تو کس فخر اورشان کے ساتھ محبت بھری نگاہیں ان پر ڈالتا جیسے کوئی مطمئن باپ اپنی کا رہائے نمایاں سرانجام دینے والی اولا د کو دیکھتا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس کی اپنی اولا د بھی آج زندہ موجود ہوتی تو اس کی پیروی میں وہ کام کر کے نہ دکھا سکتی جو یہ معاندین آج دکھا رہے ہیں۔ایک طرف لیکھرام کی خرافات کو رکھ کر دیکھ لیجئے اور دوسری طرف پیغام صلح کی ہرزہ سرائیوں کو۔کون کہہ سکے گا کہ یہ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے نہیں ؟ پھر مصنفین کے نام مٹاکر ( کہ وہ مٹنے ہی کے لائق ہیں) مضمونوں کو باہم ادل بدل کر پہچاننے کی کوشش کیجئے۔کون پہچان سکے گاکر لیکھر ام کون ہے اور ان کے ہمنوا کون؟ پس اے اس بد بخت آریہ کے ہمنواؤ جو اس کی جانشینی کا خوب خوب حق ادا کر رہے ہو! خدا را کبھی اپنی اس تصویر کی طرف بھی تو نگاہ ڈالو۔کیا تمہاری مماثلت کی متلاشی آنکھ پسر موعود پر ہی قہر برساتی رہے گی ؟ ظلم کی حد ہے کہ ایک شخص جو بیمار ہی اس لئے ہوتا ہے کہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت دین کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔خدمت دین میں دن رات مصروف مسلسل مہینوں، سالوں اس کی نیند چار پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں بنتی۔وہ بنی نوع انسان کا ایسا ہمدرد کہ لوگ اسے دعا کے لئے کہہ کر چلے جاتے ہیں اور اطمینان کی نیند سو جاتے ہیں۔وہ ان کے درد سے بے سے بے قرار ہوکر