خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 73
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 73 پیشگوئی مصلح موعود ۴۶۹۱ء بھی مصلح موعود کی پیشگوئی پر نظر نہیں ڈالی اور نہ ایسا بے بنیاد موقف اختیار نہ کرتے محض لفظ مصلح کوسن کر یہ فرض کر لینا کہ جس مصلح موعود کی پیشگوئی کی گئی ہے وہ اس وقت ظاہر ہوگا جب جماعت احمدیہ میں فساد برپا ہو چکا ہو، اس پیشگوئی سے اپنی جہالت کے اقرار کے سوا اور کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ جب خود پیشگوئی میں ہی تفصیل کے ساتھ مصلح موعود کے آنے کے مقاصد بیان کر دئیے گئے ہیں اور ان میں اشارہ یا کنایہ بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ وہ نعوذ باللہ خود جماعت احمد یہ ہی کے فساد کو دور کرنے کے لئے کھڑا کیا جائے گا تو یہ اعتراض خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ مصلح موعود کو تو الہام الہی میں اسلام کے ایک ایسے جری پہلوان کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو منکرین اسلام کے مقابل پر اسلام کی طرف سے نبرد آزمائی کے لئے نکلے گا اور انہیں شکست فاش دے گا۔تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نظر سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے دوسرا اعتراض جو آج کل بعض شریروں کی طرف سے بڑے شدومد کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے وہ نعوذ باللہ دوئی کے ساتھ حضرت امیر المومنین کی مشابہت ثابت کرنے کی ناپاک کوشش ہے۔ان معاندین کے نزدیک گویا حضرت مصلح موعود کی بیماری ویسا ہی عذاب الہی ہے جیسا مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے ڈوئی پر نازل ہوا اور اس خیالی عذاب کے خیال میں چٹخارے لیتے ہوئے وہ پیغام صلح کے صفحات کالے کرتے چلے جاتے ہیں حالانکہ نہ تو انہیں عذاب کی حکمتوں سے کوئی واقفیت ہے نہ سزا کی الف ب پر کوئی اطلاع۔جوش تعصب میں یہ ادنی سی حقیقت بھی ان کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے کہ ہر مذہبی راہ نما کی ہر بیماری عذاب الہی نہیں ہوا کرتی نہ ہرموت ذلت اور ہلاکت کی موت۔ایک ہی میدان میں پچھاڑ کھا کر گرنے والا ایک واصل جہنم مقتول بھی ہوسکتا ہے اور ایک داخل جنت شہید بھی۔دونوں کا ظاہر ایک نظر آتے ہوئے بھی حقیقت میں بعد المشرقین ہے۔دونوں کی علامتیں بظاہر ایک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز ہیں اور دونوں کے مقاصد بین طور پر مختلف۔پھر حیرت ہے کہ ان معاندین کو کیوں یہ فرق نظر نہیں آتا؟ کیا ایک ایسے