خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 440
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت شریک ہوں گے۔440 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء پھر یہ خوشخبری بھی سنائی کہ وہ حج جو دنیا کی نظر نے تجھے کرتے ہوئے نہیں دیکھا خدا کی نظر نے دیکھا اور اسے قبول کیا اور اس شان سے قبول کیا کہ کبھی کوئی حج ایسا قبول نہیں ہوا نہ آئندہ ہوگا۔قبولیت حج کے نشان کے طور پر دوسرے سب حجاج کے تو پچھلے سب گناہ بخشے جاتے ہیں لیکن خدا نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ یعنی اے ہمارے بندے ! ہم نے تیری پچھلی لغزشیں بھی معاف فرما دیں اور اگلی لغزشیں بھی معاف فرما دیں۔پس رب العزت کی نگاہ میں تیرا ماضی بھی پاک اور بے داغ ٹھہرا اور تیرا مستقبل بھی پاک اور بے داغ ٹھہرا۔قیامت تک ظاہر بین آنکھوں کے لئے اس میں یہ سبق ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر نہ کئے ہوئے حج بھی کئے ہوئے ہر دوسرے حج پر سبقت لے جاتے ہیں۔چشم بصیرت سے ذرا دیکھو تو سہی کہ آغاز بیت اللہ سے لے کر اس دنیا کے انجام تک کروڑوں اربوں انسانوں نے حج کیا اور حج کرتے رہیں گے۔حجاج کے بڑے بڑے قافلے طواف کرتے ہوئے اللہ کے گھر کے گرد گھومے اور گھومتے رہیں گے لیکن خدا کی قسم ! کسی حج کرنے والے کالج ایسا قبول نہیں ہوا نہ ہو گا جیسا کہ محمد مصطفی ﷺ کا وہ حج جو بظاہر آپ نہ کر سکے۔یہ وہ حج تھا جو مکہ میں نہیں بلکہ حدیبیہ کے میدان میں کیا گیا۔یہ حج وہ تھا جس کے دوران بیت اللہ مکہ میں نہیں بلکہ حدیبیہ کی وادی میں دکھائی دیا۔یہ وہ دن تھا جب رب کعبہ اپنی تمام شان اور تمام رعنائیوں کے ساتھ اس مقام پر جلوہ نما ہوا جہاں محمد اور اصحاب محمد خیمہ زن تھے۔ہاں یہ وہی دن تھا جب عرش خداوندی اس زمین پر اتر آیا جو آسمانوں سے بلند تر اور روشن تر تھی۔جہاں قلب مصطفوی نور ازل کی تخت گاہ بنا ہوا تھا۔جہاں روح محمد عشق کا یہ سرمدی نغمہ الاپتے ہوئے طواف کر رہی تھی۔لیک اللَّهُمْ لَبّیک لَا شَرِيكَ لَكَ لَبِّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكِ۔لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّیک۔(ماہنامہ خالد اپریل ۱۹۸۲ء)