خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 439
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 439 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء جنگ تیروں اور تلواروں اور نیزوں اور برچھیوں سے نہیں لڑی گئی اور انسانی خون کا ایک قطرہ بھی اس میں نہیں بہایا گیا تا ہم یہ ایک جنگ تھی جو بڑی شدت اور زور کے ساتھ انسانوں کے سینوں میں لڑی گئی۔یہ جنگ نفس اور ضبط نفس کی جنگ تھی۔یہ جنگ رضائے خویش اور مرضی خدا کی جنگ تھی۔اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ کا حکم جاری تھا۔ہر طرف آرزوؤں کے سر کاٹے جارہے تھے اور امنگوں کے سینے پھاڑے جارہے تھے۔بلاشبہ نفس انسانی کا اس موقع پر ایسا قتال ہوا کہ ہر طرف کشتوں کے پشتے لگ گئے۔لیکن خدا کی قسم ! اس فتح مبین کا سہرا تمام تر محمدمصطفیٰ کے سر تھا۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے بارہا گرتے ہوئے صحابہ کو سنبھالا اور لڑکھڑاتے ہوئے جسموں کو سہارا دیا۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے ان کے اکھڑتے ہوئے قدموں کو ثبات بخشا اور گرتی ہوئی ہمتوں کو ابھارا، ہاں یہ آپ ہی تھے۔آپ نے دلوں کو ڈھارس دی تو دل سنبھلے، آپ نے حوصلہ دلایا تو حو صلے پیدا ہوئے ، آپ نے ان کی روحوں کو ہلاکت سے بچایا اور ان کے ایمانوں کو نئی زندگی بخشی۔وہ غلام جنہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم تیرے آگے بھی لڑیں گے، تیرے پیچھے بھی لڑیں گے، تیرے دائیں بھی لڑیں گے اور تیرے بائیں بھی لڑیں گے۔یہ کیسا دن طلوع ہوا کہ آج خدا کا وہی برگزیدہ رسول ﷺ ان کے آگے بھی لڑ رہا تھا اور ان کے پیچھے بھی لڑ رہا تھا، ان کے دائیں بھی لڑ رہا تھا اور ان کے بائیں بھی لڑ رہا تھا اور شیطانی وساوس اور تاریک گمانوں کے چوطرفہ حملہ سے ان کی حفاظت فرمارہا تھا۔بلا شبہ یہ آنحضور کی رفعت شان اور عظمت کردار کا ایک عظیم معجزہ تھا کہ ایک غیر متزلزل عزم اور آہنی ارادہ کے ساتھ ان کے نفوس کی باگیں تھامے ہوئے تھے۔میدان اخلاق کا یہ بے مثل شہسوار اس روز ایک نئی شان اور نئی آن بان کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔پس تعجب نہیں کہ رب المجد للعلیٰ نے آپ کو عظیم الشان خلعتوں سے نوازا۔اکرام پر اکرام کیا اور انعام پر انعام فرمایا اور پیار کا ایسا اظہار کیا کہ کسی آقا نے کسی پیارے غلام سے کیا ہوگا۔وہ آپ سے ایسا راضی ہوا کہ آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور آپ کی بیعت کو اپنی بیعت قرار دیا۔پھر سب سے اول فتح مبین کی خوشخبری کیلئے آپ ہی کو چنا اور اس خطاب میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا یعنی اے ہمارے بندے! ہم نے یہ فتح مبین تجھے عطا کی ہے پس دوسرے سب جشن منانے والے تیرے ہی واسطہ اور تیرے ہی وسیلہ سے اس میں