خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 432
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 432 غزوات النبی میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء محبوب سبحانی جومیدان و فامیں بھی ہر دوسرے پر سبقت لے گیا۔انعام حدیبیہ میدان حدیبیہ میں آپ کی تقلید میں جو ظاہری قربانیاں دی گئیں وہ تو محض علامتیں تھیں اصل قربانیاں تو عزت نفس اور جذبات کی وہ قربانیاں تھیں جن کی گردن پر رضائے باری تعالیٰ کی خاطر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آنحضور ﷺ نے مضبوط اور نہ لرزنے والے ہاتھوں کے ساتھ چھری پھیری اور انہیں تڑپنے کی بھی اجازت نہ دی۔یہی وہ قربانیاں تھیں جو بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئیں اور اس شان سے مقبول ہوئیں کہ اس کی کوئی مثال انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔حدیبیہ سے واپسی پر سورہ فتح کے نزول نے آنحضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر فضل و اکرام کا ایک نیا باب کھولا۔مقام محمد مصطفی ﷺ کو ایک نئی شان اور نئی آن بان کے ساتھ ظاہر کیا اور حدیبیہ کی صلح کو۔فتح مبین قرار دے کر یہ راز مسلمانوں پر کھولا کہ یہ کوئی گراوٹ کی صلح نہ تھی بلکہ ایک کھلی کھلی فتح تھی جس کے بطن سے آئندہ عظیم الشان فتوحات نے جنم لینا تھا۔اس سورۃ نے مسلمانوں کو یہ نوید سنائی کہ درخت کے نیچے حدیبیہ کے مقام پر جو فدائیت اور وفا کی بیعت انہوں نے محمد مصطفی میل کے ہاتھ پر کی تھی وہ رب العزت کی نظر میں مقبول ہوئی۔خدا ان سے راضی ہوا اور مستقبل قریب میں انہیں فتح کی بشارت دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ أَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا کے الفاظ میں جس فتح کا ذکر ہے وہ فتح مکہ ہے جو مسلمانوں کو سب فتوحات سے زیادہ مرغوب تھی۔چنانچہ اس موقع پر جمع کا صیغہ استعمال فرما کر سب صحابہ کو اس میں شریک کیا لیکن وہ دوسری فتح جس کا سورہ فتح کی پہلی آیت میں ذکر کیا گیا ہے اور فتح مبین قرار دیا گیا اور اس کی بشارت دیتے ہوئے صرف رسول کریم ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبینا (الفتح (۲) یہ فتح کیا تھی یہ کھلی کھلی اور روشن روشن فتح جو خاص ذات مصر سے منسوب کی گئی اور جس میں آپ کے ساتھ اور کوئی شریک نہ تھا مگر آپ کے وسیلہ سے یہ فتح آپ کی عظمت کردار، آپ کے خلق عظیم، آپ کی روحانی قوتوں کی فتح تھی۔یہ فتح مرضی خدا کی