خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 411
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 411 غزوات النبی اے میں خلق عظیم (غزوہ حدیبیہ ) ۱۸۹۱ء کارروائی کے لئے تیار کر رہے تھے چنانچہ بنو بکر کے علاوہ انہوں نے عرب کے مشہور تیرانداز اور بے جگری سے لڑنے والے احا بیش کے ساتھ بھی دوستی کی پینگیں بڑھانی شروع کر رکھی تھیں۔اہل مدینہ ان دبے ہوئے طوفانوں کے وجود سے بے خبر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف پرسکون زندگی بسر کر رہے تھے لیکن ان میں ایک شب بیدار صاحب بصیرت وجود ایسا بھی تھا جو اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا تھا اور کوئی ظاہری حجاب اس کی دور رس باریک بین نگاہ کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا تھا۔آپ ان دونوں خطرات سے خوب باخبر تھے لیکن آپ ﷺ کا دستور زندگی یہ تھا کہ وحی الہی کی ہدایت کے بغیر نہ تو کوئی فیصلہ فرماتے نہ کوئی اقدام کرتے۔پس گو نور بصیرت ہر لمحہ بھڑک ٹھنے کے لئے تیار تھا لیکن نور اللہ کے اس جلوے کا منتظر تھا جو آپ کے ہر فیصلہ اور ہر اقدام کو نُورٌ عَلَى نُورِ بنا دیا کرتا تھا۔ی انہی دنوں کی بات ہے کہ خیر الماکرین یا عالم الغیب خدا کا فیصلہ ایک رات عجیب رنگ میں ظاہر ہوا اور مسلمانان مدینہ کو اس فیصلہ نے حیران کر دیا۔رویا کی صورت میں وحی الہی نازل ہوئی اور آنحضور کو یہ خوشخبری عطا کی گئی کہ مسلمان سرمنڈاتے اور بال کتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہورہے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔پس اس وحی سے یہ استنباط کرتے ہوئے کہ حج بیت اللہ کی جو خوشخبری دی گئی ہے وہ اسی سال پوری ہوگی آپ نے اہل اسلام میں یہ منادی فرما دی کہ حج بیت اللہ اور عمرہ کی تیاری کریں اور اچانک اس اعلان کے ساتھ مدینہ کی فضا گہما گہمی سے گونج اٹھی اور ہر طرف ذوق و شوق کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت کی تیاری ہونے لگی۔السيرة الحلبیہ جلد ۳ نصف اول صفحه: ۵۱، ۵۲) جلد ہی خدا کے درویشوں کا یہ قافلہ اللہ کی محبت میں سرشار سرتاج عشاق کی قیادت میں مکہ کی جانب روانہ ہوا۔تلواروں کے سوا جو عربوں کے لباس کا حصہ تھیں کوئی سامان جنگ ساتھ نہ تھا کسی مقابلہ کا وہم وگمان بھی کسی دل میں نہ گزرا تھا۔ہاں زادراہ اور قربانی کے لئے ستر اونٹ ساتھ تھے۔یہ قافلہ بڑے ذوق وشوق کے ساتھ مکہ کی طرف جارہا تھا۔ذوالحلیفہ کے مقام پر جو مدینہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ہے آنحضوں اور آپ کے غلاموں نے قدیم دستور کے مطابق احرام باندھا اور اونٹوں کے پہلو قربانی کی علامت کے طور پر داغ دیئے اور لبیک اللھم لبیک کا عاشقانہ