خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 407
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 407 غزوات النبی ہے میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء سابر پا کر دیا اور ہر طرف بدامنی اور سراسیمگی پھیل گئی۔بہت سے خیموں کی طنا میں ٹوٹ گئیں اور جگہ جگہ آگ کے الا و بجھ گئے۔کئی جگہ جلتے ہوئے کو مکے منتشر ہو کر خیموں کو آگ لگانے لگے۔وہ لوگ چونکہ آتش پرست بھی تھے اس لئے آگ کے بجھنے سے نحوست کا شگون نکالا اور دل چھوڑ بیٹھے۔ہر طرف سے کوچ کوچ کی آواز میں بلند ہونے لگیں اور دیکھتے دیکھتے ایک سراسیمگی اور افراتفری کے عالم میں ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔اب خود ابوسفیان کی سراسیمگی کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کے گھٹے کھولے بغیر اس کی پیٹھ پر سوار اس پر کوڑے برسا رہا تھا کہ وہ بھاگتا کیوں نہیں۔مسلمان ان تمام باتوں سے بے خبر تھکاوٹ اور فاقوں سے نڈھال اپنی قیام گاہوں میں پڑے تھے لیکن ایک بیدار بخت وجود ان کی بہبود کی خاطر جا گا ہوا تھا۔قیامت کے اس طوفان میں اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور آواز دی کہ کوئی ہے جو اس وقت جا کر کفار کے لشکر کی خبر لاوے۔جب کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا کیونکہ صحابہ آواز سننے کے باوجود تھکاوٹ سخت ٹھنڈی اور تند ہوا کے باعث جواب دینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔صرف ایک ابوحذیفہ تھے جنہوں نے عرض کی کہ میں حاضر ہوں۔آنحضوں نے ان سے اعراض کرتے ہوئے آواز دی لیکن اس دفعہ پھر ابو حذیفہ کے سوا اور کسی کو لبیک کہنے کی طاقت نصیب نہ ہوئی۔تب آنحو ں نے ابو حذیفہ کو یہ کہہ کر کفار کی خبر لانے کے لئے بھیجا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ ہم نے تمہارے دشمن کو بھگا دیا ہے جاؤ اور دیکھو دشمن کا کیا حال ہے؟ چنانچہ جب حضرت ابو حذیفہ نے خندق کے پاس جا کر جائزہ لیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تمام میدان خالی پڑا تھا اور اس ویرانی کے سوا جو بھاگتی ہوئی فو جیں اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہیں دشمن کا کوئی نشان باقی نہ تھا۔ہاں ! گوش بصیرت فضا کے ہر ارتعاش میں یہ نغمہ سن رہا تھا کہ جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ (ص:۲۱) دیکھو خدا کے بندوں کے لئے جب خدا کی کائنات مسخر ہوتی ہے تو کیسے کیسے عجیب کام ان کے لئے دکھاتی ہے۔وہ تند و تیز آندھی جس نے دیکھتے دیکھتے دشمن کے بڑے بڑے آگ کے الاؤ بجھا دیے اور لات و منات کے آتش کدوں کی خاک اڑا دی ، نور مصطفوی کے شعلہ نور کو بھجا نہ سکی بلکہ وہ تو اس رات پہلے سے بھی بڑھ کر بلند تر اور روشن تر اور قوی تر ہوکرا بھرا اور اس رات کو بقعہ نور بنا دیا