خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 395

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 395 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء دینے کے لئے اس معاہدہ پر عمل درآمد کچھ دنوں کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔حالات کے اس نئے رخ نے کفار کو دوہرا فائدہ پہنچایا۔ایک تو محاصرے کی طوالت ویسے ہی مسلمانوں کی کمزوری میں اضافہ کر رہی تھی دوسرے خندق کی حفاظت کرنے والے مجاہدین کے لئے مسلمان خواتین اور بچوں کی حفاظت کا ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا جو پہلے اس لئے محفوظ سمجھے جارہے تھے کہ ان کے اور دشمن کے درمیان لشکر اسلام صف آرا تھا جسے کلیۂ پامال کئے بغیر دشمن ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔لیکن بنوقریظہ اور مسلمان خواتین کی جائے قیام کے درمیان کوئی روک نہ تھی۔علاوہ ازیں خود مسلمان لشکر کی پشت بھی بنو قریظہ کی طرف سے غیر محفوظ ہو گئی اور ان کی طرف سے مسلمانوں پر اچانک پشت کی طرف سے حملہ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔پس اس خطر ناک صورتحال کے پیش نظر آنحو نے دودستے جن کی تعداد تین صد اور دوصد بیان کی جاتی ہے خندق پر لڑنے والی فوج سے الگ کر کے ان دونئی ضرورتوں پر مامور فرما دیئے۔گویا بارہ سو کی بجائے اب خندق کی حفاظت کرنے والی فوج کی تعداد صرف سات سو رہ گئی۔مسلمانوں پر یہ ایک ایسا ہولناک وقت تھا کہ اس کے تصور سے بھی دل پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ایک طرف ہلاکت اور تباہی کی قوتوں میں اضافہ ہوتا چلا جار ہا تھا تو دوسری طرف دفاعی طاقت ڈوبتی ہوئی نبضوں کی طرح کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔آخر اس بظاہر بے جوڑ اور بے توازن مقابلے کا کیا انجام تھا۔آخر کیوں دیکھنے والی آنکھوں نے اس انجام کو نہیں دیکھا جو آہستہ لیکن یقینی اور مضبوط قدموں کے ساتھ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔دیکھا اور ضرور دیکھا لیکن زاویہ نگاہ کے فرق کے ساتھ۔دیکھنے والوں کی آنکھیں دو گروہوں میں بٹی ہوئی تھیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف مستقبل کو قریب آتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے ان دونوں قسم کی دیکھنے والی آنکھوں کا ذکر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔کچھ آنکھیں تو وہ تھیں جو محض ظاہری حالات پر نظر رکھتے ہوئے جو کچھ دیکھ رہی تھیں انہی کے الفاظ میں یہ تھا: إِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُوْنَا