خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 394
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 394 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۱۰۸۹۱ ہلکے پھلکے قدموں سے رواں دواں خندق کو عبور کر کے دشمن کے کیمپ میں جا پہنچے اور حالات معلوم الله کرنے کے بعد اسی رات واپس آکر آنحضور ﷺ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔اس واقعہ پر غور کرنے سے ہمہ وقت آنحضور کی بیدار مغزی اور قائدانہ فرائض کی ادائیگی کا بھی پتا چلتا ہے اور نا قابل بیان جسمانی محنت اور بے مثل عزم و ہمت کا بھی۔یہی وجہ ہے کہ تمام محاصرہ کے دوران دشمن نے آپ کو کبھی کسی پہلو سے غافل نہ پایا۔آنحضور کی حیرت انگیز فراست کا بھی اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ دشمن کی خبر لانے کے لئے وہ وقت منتخب کیا جب سارے دن کے مقابلہ کے بعد صحابہ اس قدر تھکے ہوئے تھے کہ دشمن کی نظر میں یہ بعید از احتمال تھا کہ ایسے مشکل وقت میں کوئی ان کی خبر لانے کو آسکتا ہے۔پس ابوسفیان نے گورسمی احتیاط تو کی لیکن ابو حذیفہ ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن خبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔وہ خبر یہ تھی کہ مدینہ کے جنوب مغرب میں بسنے والے یہودی قبیلہ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ اپنے عہد و پیمان تو ڑ کر کفار کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔دشمن کی سب سے خطر ناک چال اور بنو قریظہ کی غداری ہجرت مدینہ کے آغاز ہی میں جن یہودی قبائل سے آنحو ں کا صلح اور امن کا معاہدہ ہوا تھا ان میں سے دو قبیلے تو پہلے ہی غداری کر کے اپنے کئے کی سزا پا چکے تھے بس ایک قبیلہ بنو قریظہ ابھی تک کچھ نہ کچھ اپنے عہدو پیمان پر قائم تھا۔حملہ آور لشکر کے سرداروں نے جب اس قبیلہ کو بھی مسلمانوں سے غداری پر آمادہ کر لیا تو مسلمانوں کی دفاعی صلاحیت کو بظاہر نا قابل تلافی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔کفار کی طرف سے کامیاب گفت وشنید کا کارنامہ کی بن اخطب نے سرانجام دیا جو اس یہودی قبیلہ بنونضیر کا سردار تھا جسے عہد شکنی اور آنحضور پر قاتلانہ حملہ کرنے کی سازش کے نتیجہ میں کچھ عرصہ پہلے مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔یہ معاہدہ اتنا خطر ناک تھا کہ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تقدیر کے سوا کوئی طاقت بھی مسلمانوں کو کلیۂ نیست و نابود ہونے سے بچ نہ سکتی تھی۔لومڑی کی طرح عیار اور بھیڑیے کی طرح سفاک دشمن کا یہ سب سے کاری وار تھا جو مسلمانوں پر کیا لیکن عمد امسلمانوں کے عذاب کو لمبا کرنے کی خاطر یا بنو قریظہ کو تیاری کا موقع