خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 381
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 381 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۰۸۹۱ء الاول دن کو بھی مصروف رہتا ہوں اور راتیں بھی تیرے حضور جاگ کر کاٹتا ہوں اور چندلمحوں کی پرسکون نیند سے بھی محروم ہوں۔پھر بھی میرے آقا! یہ امت مسلمہ جس کی سرداری تو نے مجھے بخشی ہے اس کی ہر ذمہ داری کو میں فقط اور فقط تیری رضا کی خاطر اُٹھاتا چلا جارہا ہوں اور اُٹھاتا چلا جاؤں گا۔یہ دعا ئیں خواہ کچھ بھی ہوں عالم الغیب خدا آپ کے حال سے خوب باخبر تھا وہ جانتا تھا کہ جب مجاہدین خندق کو بھوک ستاتی ہے تو سب سے بڑھ کر بھوک کی تکلیف میں اس کا بندہ مبتلا ہوتا ہے۔وہ جانتا تھا کہ جب مومن مشقت اُٹھاتے ہیں تو سب سے بڑھ کر مشقت اٹھانے والا اس کا بندہ ہوتا ہے اور خوب جانتا تھا کہ جب نیند کے چندلحات کے لئے مومنوں کی آنکھیں ترس رہی ہوتی ہیں تو سب سے بڑھ کر نیند کا ستایا ہوا اس کا بندہ موم ہوتا ہے۔ان حالات میں جب کوئی فاقہ زدہ آنحضوﷺ کی طرف سائلا نہ نظروں سے دیکھتا ہوگا، جب کوئی تھکا ہارا آنحضو سے آرام کی اجازت مانگتا ہوگا، جب کوئی رتجگوں سے تنگ آیا ہوا حضور تیل سے سونے کی رخصت صلى الله چاہتا ہو گا، جب کوئی تھکا ہوا جسم سخت کاموں میں آنحضو سے مدد کا طالب ہوتا ہوگا اور آنحضور خود اپنی بے آرامی اور اپنے فاقوں اور اپنی جسمانی اذیت کا راز سینے میں چھپائے ہوئے اس نسبتاً کم مصیبت زدہ کی ہمدردی اور غم خواری فرماتے ہوں گے اور اس کا بوجھ ہلکا کرنے کی سعی فرماتے ہوں گے تو کائنات کا ذرہ ذرہ آپ پر درود اور سلام بھیجتا ہوگا اور زمین و آسمان بیک زبان یہ گواہی دیتے ہوں گے کہ دیکھو اپنے خدا کی خاطر اس کی مخلوق کے سارے بوجھ اُٹھانے والا وہ آ گیا جس کی وقت کو ازل سے انتظار تھی۔وہ جس کی نظیر نہ پہلے تھی نہ آئندہ ہوگی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ ان آڑے وقتوں میں آپ کا رب اپنے اس بے مثل بندے کی مدد کے لئے خود عرش سے زمین پر نہ اتر آتا کہ اے میری خاطر سب ناممکن بوجھ اُٹھانے والے ! میں تیری خاطر تیرے سب بوجھ اُٹھالوں گا اور ہر ناممکن کو ممکن کر دکھاؤں گا، تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں۔میری ساری کائنات اور اس کے تمام مخفی قوانین تیرے لئے مسخر کر دیئے گئے ہیں۔واقعاتی شہادت ہمیں بتا رہی ہے کہ ایسا ہی ہوا اور آنحضو جب خندق میں اتر کر اس چٹان تک پہنچے اور اسے توڑنے کے لئے کدال اُٹھایا تو وہ اٹوٹ چٹان جس پر سلمان فارسی جیسے گرانڈیل انسان کی پے در پے ضربات نے کوئی ادنی سا اثر نہ دکھایا آنحضور کی ایک ضرب سے