خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 380

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 380 غزوات النبو اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ۱۰۸۹۱ دیتے کہ اے مسلمان ! تم تو اسلامی لشکر کے مضبوط ترین مجاہد ہو اور تمہاری جفاکشی کے چرچے عام ہیں۔اگر تمہاری ضربوں سے بھی چٹان نہیں ٹوٹی تو میں کیا کر سکتا ہوں اس جگہ کو چھوڑ کر خندق کا راستہ بدل دو اور چٹان کے پہلو سے ہو کر گزر جاؤ نہیں! بلکہ ایک نہایت بلند پایا منتظم کی حیثیت سے آپ موقع پر جا کر صورت حال کا جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔صرف جائزہ لینا ہی ضروری نہیں سمجھتے بلکہ خود چٹان کو توڑنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ فرما لیتے ہیں۔یہ فیصلہ ان حالات میں کوئی معمولی ہمت کا کام نہ تھا۔مسلسل فاقوں اور محنت شاقہ کے ان ایام میں سردی بھی غضب کی پڑ رہی تھی۔جن لوگوں کو سخت سردی میں بھوک کی سختی اور اس کے ساتھ جسمانی محنت کا کچھ تھوڑا سا بھی تجربہ ہو وہ اندازہ لگا سکتے الله ہیں کہ اس وقت انسان کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوتی ہے۔پس یہ واقعہ آنحضور کے آہنی عزم پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور اس احساس ذمہ داری پر بھی اور اس حقیقت پر بھی کہ ادائیگی فرض کی خاطر آپ آپنی جان کو اور اپنی ذات کو شدید سختی اور مشقت میں ڈالنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے۔پس میں تو جب اس وقت کا تصور کرتا ہوں کہ کیسی شدید جسمانی اذیت اور تکلیف کی حالت صل الله میں آنحضو سے اس چٹان کی طرف بڑھ رہے تھے ، وقار اور صبر اور ضبط کا پیکر بنے ہوئے۔جب آپ کے قدم خندق کے اس حصہ کی طرف اُٹھ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ اس وقت کیسی محبت اور پیار کی نظروں سے آپ کو دیکھ رہا ہوگا اور کائنات کے ذرے ذرے کے دل سے یہ آواز اُٹھ رہی ہوگی کہ دیکھو اس انسان کامل کو دیکھو! کیسے کیسے بوجھ اٹھانے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے! ایک اور پہلو سے جب ہم اس واقعہ کو دیکھتے ہیں تو اپنے رب پر آپ کے حیرت انگیز تو کل اور یقین کامل کا ایک حسین نظارہ سامنے آجاتا ہے۔آپ جانتے تھے کہ آپ کی مرضی خدا کی مرضی اور آپ کا ارادہ خدا کا ارادہ بن چکے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے مشن میں ناکام رہنے دے۔آپ ہمہ تن ہمہ وقت دعا تھے۔میں سوچتا ہوں کہ اس وقت آپ کے دل کی گہرائیوں سے کیا کیا کہی یا ان کہی دعائیں اُٹھ رہی ہوں گی۔زبان حال تو یقیناً یہ کہتی سنائی دیتی ہے کہ اے میرے رب ! میرے ہم و غم اور جسمانی آزار تجھ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں جانتا، میری جسمانی کمزوری اور فاقہ کشی سے پیدا ہونے والی نقاہت کے راز تجھ سے بڑھ کر کس پر روشن ہیں ! تو جانتا ہے کہ میں