خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 376
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 376 غزوات النبی اللہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۱۰۸۹۱ میں مکمل ہوئی۔اس کی لمبائی ڈیڑھ میل سے ساڑھے تین میل تک بیان کی گئی ہے۔لیکن میرے نزدیک تین میل والی روایات زیادہ قابل قبول ہیں کیونکہ مدینہ کے نقشہ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے که اگر کم و بیش تین میل خندق نہ کھودی جاتی تو خندق کی کھدائی کا مقصد ہی فوت ہو جاتا اور میل ڈیڑھ میل کا ایسا کھلا راستہ دشمن کو میسر آجاتا جس پر سے ہیں پچیس ہزار کی فوج آسانی سے گزر کر بیک وقت یلغار کر سکتی تھی۔تین ہفتہ کا یہ عرصہ جس میں خندق کھودی گئی آنحضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگی پر جسمانی لحاظ سے سخت ترین دور تھا۔مرد، عورتیں اور ایسی عمر کے بچے ملا کر جو کچھ نہ کچھ کام کے صلى الله قابل تھے صحابہ کی کل تعداد تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔آنحضور ﷺ نے یہ تمام مردوزن ، بوڑھے اور بچے خندق کی کھدائی کے سلسلہ میں مختلف کاموں پر لگا دیئے۔ہلکے کام عورتوں اور بچوں کے سپرد تھے اور کھدائی اور مٹی اٹھانے کا کام مردوں کے سپر د تھا۔آپ نے کام کرنے والوں کو دس دس کی ٹولیوں میں تقسیم فرما کر ہر ٹولی کے سپر د تقریباً بیس گزلمبی اور چار گز چوڑی زمین کر دی جہاں انہوں نے اپنے حصہ کی خندق بنانی تھی۔شدید مشقت اور فاقہ کشی مسلمانوں پر یہ وقت بہت بھاری تھا۔وقت تھوڑا اور کام بہت زیادہ تھا۔معلومات کا کوئی ایسا ذریعہ ایسا نہ تھا کہ دشمن کے پہنچنے کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے اس لئے اس بے یقینی کی کیفیت نے اور بھی اضطراب بڑھا دیا تھا۔زمین سخت اور سنگلاخ تھی۔آلات پورے میسر نہ تھے۔کدالوں اور پھاوڑوں کی اتنی کمی تھی کی بنو قریظہ سے کرائے پر حاصل کئے گئے تب بھی ضرورت پوری نہیں ہوسکی۔مٹی دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے نگاریاں اور ٹوکرے بھی بالکل نا کافی تعداد میں تھے۔پس صحابہؓ اپنی چادروں میں بھر بھر کر مٹی خندق سے نکال کر باہر پھیلاتے رہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی اپنے کھیسوں میں مٹی بھر بھر کر لے جانے کے کام پر مامور تھے۔آنحضور ﷺ کی نگرانی میں دن رات اللہ کے مزدوروں کا یہ گروہ خندق کھودنے میں مصروف تھا۔آنحضور محض نگرانی کے فرائض ہی سرانجام نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسرے محنت کشوں کی طرح اپنے مولا کے در کے ایک مزدور بنے