خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 375
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 375 غزوات النبویہ میں خلق عظیم ( غزوہ احزاب ) ۰۸۹۱ء کرنے لگا۔پس قریش مکہ لِيَغِیظُ بِهِمُ الْكُفَّار کی اٹل تقدیر کے تابع پہلے سے بڑھ کر اسلام کی ترقی پر حسد میں جلنے اور غیظ کھانے لگے۔قریش مکہ کے علاوہ ایک یہودی قبیلہ بنونضیر جسے عہد شکنی ، فساد، بے حیائی اور آنحضو کے خلاف اقدام قتل کے نتیجہ میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا اپنی اس جلا وطنی کے نتیجہ میں اسلام کا پہلے سے بھی کہیں بڑھ کر دشمن ہو چکا تھا اسی انتقام کی آگ میں جلتا ہوا اس قبیلہ کا سردار حیی بن اخطب مسلسل قبائل عرب اور اہل مکہ کو آنحو اور اسلام کے خلاف اکساتا رہتا تھا۔پس اس معاند کی اشتعال انگیزی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اہل مکہ اور ان کے حلیف اسلام دشمن قبائل بنو غطفان ، بنو اسد، بنو سلیم ، بنومزہ، بنو اسعد وغیرہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ایک ایسا عظیم الشان لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوں جس کے مقابلہ کی مسلمانوں میں تاب نہ ہو۔یہ منصوبہ انتہائی خطر ناک تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ عرب کی سرزمین سے مسلمانوں اور اسلام کو کلیتہ نا پید کر دیا جائے۔مختلف گروہوں یعنی احزاب پر مشتمل یہ عظیم لشکر جس کی تعداد دس اور پچیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے سامان جنگ سے پوری طرح لیس ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا۔چونکہ ان گروہوں کے علاقے مدینہ سے مختلف سمتوں اور فاصلوں پر واقع تھے اس لئے ایک منصوبہ کے تحت یہ ایسے مختلف وقتوں میں روانہ ہوئے کہ مدینہ کے قریب احد کی وادی کے گردو پیش یہ سب گروہ تقریباً ۲۰، ۲۵/ فروری ۶۶۲۷/ شوال ۵ ہجری تک جمع ہو گئے۔اس خوفناک منصوبہ کا دائرہ چونکہ بہت وسیع تھا اور مدینہ کے شمال میں مدینہ کے جنوب میں مکہ تک پھیلا ہوا تھا اس لئے اس کا پردہ اختفاء میں رکھنا ناممکن تھا۔چنانچہ غالباً جنوری کے اواخر تک کسی وقت آنحضو کو بھی اس منصوبہ کی اطلاع مل گئی۔یہ صلى الله اطلاع ملتے ہی آنحضور ﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا کہ اس انتہائی خوفناک حملہ سے کیسے نپٹا جاسکتا ہے تو حضرت سلمان فارسی نے یہ تجویز پیش کی کہ مدینہ کی شمالی اور مشرقی جانب چونکہ قدرتی دفاع سے خالی ہے اور اس طرف سے کوئی لشکر بلا رو کے ٹو کے شہر میں داخل ہوسکتا ہے اس لئے اہل فارس کے طریق کے مطابق اس طرف خندق کھودی جائے تاکہ دشمن کو اپنی بے پناہ عددی برتری سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے اور مسلمانوں پر یک دفعہ یلغار نہ کر سکے۔آنخصوصی نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور خندق کی نشان دہی فرما کر بلاتا خیر اس کی کھدائی کا کام شروع کروا دیا۔یہ خندق تقریباً ۲۱ دن