خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 335
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 335 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء موجود تھیں لیکن آنحضور کی اوّل و آخر حیثیت ایک جنگی ماہر کی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی سردار کی تھی جس کے ہاتھوں میں مکارم اخلاق کا جھنڈا تھایا گیا تھا۔اعلیٰ اخلاق کا جھنڈا بلند رکھنے اور بلند تر کرتے جانے کے جس عظیم جہاد میں مصروف تھے وہ ایک مسلسل کبھی نہ ختم ہونے والا ایک ایسا مجاہدہ تھا جو امن کی حالت میں بھی اسی طرح جاری رہا جیسے جنگ کی حالت میں ، دن کو بھی آپ نے اس علم کی حفاظت کی اور رات کو بھی۔دشمن بارہا آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید جسمانی ضربات پہنچانے اور المناک چر کے لگانے میں کامیاب ہو جا تا رہا مگر اس علم اخلاق پر آپ نے کبھی ادنی سی آنچ نہ آنے دی اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچنے دیا۔اس وقت بھی یہ جھنڈا آپ کے مقدس ہاتھوں میں بڑی شان کے ساتھ آسمانی رفعتوں سے ہمکنار تھا جب آپ کا بدن شدید زخموں سے نڈھال ہوکر احد کی پتھریلی زمین پر گر رہا تھا۔اس وقت بھی یہ جھنڈا ایک عجب شان بے نیازی کے ساتھ آپ کے ہاتھوں میں لہرا رہا تھا جب چاروں طرف صحابہ کے بدن کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔پس خلق محمدی اور ان صحابہ کے اخلاق کا جہاد جو آپ کے ساتھ تھے ، احد کے قتال کے شانہ بشانہ بڑی قوت اور زور کے ساتھ جاری رہا اور فاتح اعظم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بار ہر اخلاقی معر کے میں عظیم فتح نصیب ہوئی۔ان ہولناک زلازل کے وسط میں سے ہو کر آپ بسلامت نکل آئے جو اخلاق کی بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو بھی مسمار کر دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔پس آئیے اب ہم انتہائی صبر آزما اور سخت مشکل اور حوصلہ شکن حالات میں جو جنگ احد میں پیش آئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے پیارے پر سکون اور پر وقار اخلاق کا کچھ نظارہ کرتے ہیں: عزم و ہمت کا پہاڑ جس کے پائے ثبات لغزش سے نا آشنا ہیں کفار کے اچانک جوابی حملے نے جو سراسیمگی اور انتشار کی کیفیت پیدا کر دی اس کا سب سے بڑا نقصان لشکر اسلام کو یہ پہنچا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا رابطہ کٹ گیا اور محض گنتی کے چند آدمی تھے جو آنحضور کے ساتھ رہ گئے لیکن وہ بھی شدت جنگ کے باعث ہمہ وقت ساتھ نہیں رہ سکتے تھے چنانچہ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات آنحضور بالکل تنہا رہ جاتے تھے لیکن