خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 334

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 334 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء تیاریوں میں مصروف تھا۔اس اثنا میں روحاء کے میدان سے ایک شخص معبد خزاعی کا گزر ہوا جو بنو خزاعہ سے تعلق رکھتا تھا اور آنحضور سے بہت متاثر تھا۔اس نے جب لشکر اسلام کا بے پناہ عزم و حوصلہ دیکھا تو اس کے دل پر اس کا گہرا اثر پڑا چنا نچہ وہ وہاں سے سیدھا لشکر کفار کے پاس روحاء پہنچا اور ابوسفیان کو متنبہ کیا کہ خبردار اس لشکر سے ہر قیمت پر اپنی جان بچاؤ جسے میں حمراء الاسد میں دیکھ کر آیا ہوں۔ان میں عزم و ہمت اور جوش انتقام کے وہ آثار میں نے دیکھے ہیں کہ تم کسی طرح ان سے بیچ نہیں سکو گے۔جب ابوسفیان نے یہ سن کر جواب دیا کہ ہم تو ان پر حملہ کرنے کا پختہ ارادہ کئے بیٹھے ہیں تو معبد نے کہا میں ہر صاحب عقل کو اس سے باز رہنے کا مشورہ دیتا ہوں اور مزید کہا کہ محمد (مصطفی) کے لشکر سے متاثر ہوکر میں نے کچھ اشعار بھی کہے ہیں جو تمہیں سنائے دیتا ہوں۔جو اشعار اس نے پڑھے ان میں آنحضور اور آپ کے ساتھیوں کو دراز قد شریف الاصل شیروں سے تشبیہ دی اور کہا: فَظَلْتُ عَدْواً أَظُنْ الْأَرْضَ مَائِلَةً لَمَّا سَمِعُوا بِرَئيسٍ غِيرِ مَخُذُولٍ فَقُلْتُ وَيْلٌ لِابْنِ حَرْبٍ عَنْ لِقَائِهِمْ إِذَا تَغَطْمَطَتِ الْبَطْحَاءُ بِالْجِيْلِ یعنی میں دراز قد شیروں کو دیکھ کر تیزی سے دوڑا اور اس وقت زمین مجھے ایک طرف جھکتی ہوئی معلوم ہوئی جب میں نے ان کو ایک عظیم سردار کی معیت میں آگے بڑھتے دیکھا جو کبھی شکست نہیں کھاتا۔تب میں نے کہا کہ ہلاک ہولڑائی کا بیٹا (ابوسفیان ) جب وہ تم جیسوں سے تصادم کرے۔یہ بات میں نے اس وقت کہی جب بطحاء کی زمین ان جیالے گروہوں کی وجہ سے جوش سے بھری ہوئی تھی۔ابوسفیان نے جب معبد خزاعی کے یہ اشعار سنے تو اس کا دل ڈول گیا اور بالآخر باہم مشوروں کے بعد سردار قریش نے خیریت اسی میں جانی کہ لڑائی کا ارادہ ترک کر کے مکہ کی طرف لوٹ جائیں۔( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۴۴۹، ۴۵۰) ہر چند کہ غزوات نبوی پر نظر ڈالنے سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احسن بے مثل استعدادوں پر بھی حیران کن روشنی پڑتی ہے جو بحیثیت ایک سالار عیش آپ کی ذات میں بد درجہ اتم