خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 300

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 300 فلسفہ حج ۷۷۹۱ بچہ پیاس سے تڑپنے لگا تو بے قراری میں دوڑیں ، ایک پہاڑی ہے صفا اس پر چڑھیں ، دیکھا کہ کوئی دور تک شاید آدمی نظر آئے کہیں سے کوئی سہارا مل جائے، کچھ نہیں تھا، واپس اتریں جب درمیان کے حصے میں پہنچیں جو گہری ہے اس گھبراہٹ سے کہ جلدی جاؤں اس کی طرف وہاں سے دوڑنے لگیں ، پھر پہاڑی آئی ، کمزور ہو چکی تھیں پھر آپ کی رفتار سست ہو گئی ،مروہ کی پہاڑی پر چڑھیں ، وہاں سے دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا پھر گھبراہٹ میں واپس دوڑیں کہ شاید پرلی طرف کوئی آدمی آچکا ہو۔اسی طرح سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ جب آخری مرتبہ، ساتویں مرتبہ آپ پہاڑی کے اوپر تھیں تو آپ کو ایک آواز سنائی دی، دوبارہ آواز سنائی دی۔آپ نے کہا اے آواز والے! کیا تو میری مدد بھی کرسکتا ہے؟ اس وقت خدا کا فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے کہا اے ہاجرہ! تجھے کوئی فکر نہیں خدا نے تیری سن لی ہے۔دیکھ جہاں تو نے اپنا بچہ رکھا ہوا ہے، ڈالا ہوا ہے اس طرف دیکھ۔وہاں آپ نے دیکھا تو فرشتہ وہاں تھا اس نے زمین پر ایٹڑی ماری اور آب زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا۔آپ بے قراری سے اس طرف دوڑیں اور اس چشمے سے چلو بھر بھر کر پانی لینے لگیں۔حضرت رسول کر یم ﷺ فرماتے ہیں کہ اسماعیل کی ماں ہاجرہ اگر چلو نہ بھرتی تھوڑا اظرف نہ دکھاتی تو بہت بڑا اور پر زور چشمہ وہاں سے پھوٹ پڑتا۔( صحیح بخاری کتاب المساقاة باب من رأى ان صاحب الحوض والقربۃ۔۔۔لیکن دراصل اس چشمہ میں اشارہ تھا، بیت اللہ کے اندر فلسفہ اسلام ہے دراصل سارے کا سارا۔صلى الله الله بیت اللہ دراصل حضرت محمد مصطفی کے لئے ایک بنیاد کا کام دیتا تھا۔اس چشمے میں بھی دراصل اس کوثر کی طرف اشارہ تھا جو آنحضرﷺ کو عطا ہونے والی تھی۔جس طرح جسمانی لحاظ سے زندگی کے لئے وہاں ایک چشمہ پھوٹا اسی عرب کے صحرا سے ایک بے قرار روح نے خدا کے حضور گڑ گڑانا تھا اور ایڑیاں رگڑنی تھیں وہ حضرت محمدمصطفی تھے۔ساری دنیا پیاس سے تڑپ رہی تھی کہ ایک بوند پانی کی نظر نہیں آتی تھی روحانی دنیا میں تب محمد مصطفی ﷺ کی روح کی بے قراری کو دیکھ کر تب آپ کی گریہ وزاری کو سن کر آسمان سے وہ رحمت کا چشمہ پھوٹاوہ عرفان کا چشمہ پھوٹا وہ سمندر ظاہر ہوا جسے ہم قرآن کہتے ہیں۔یہی وہ دراصل کوثر ہے جس کے لئے آب زم زم ایک بنیاد اور ایک اشارے کے طور پر تھا لیکن یہ کوثر ظرف کے مطابق عطا ہوا اور جس طرح حضرت محمد مصطفی کا ظرف بے پناہ تھا ویسا ہی یہ کوثر بھی بے پناہ ہو گیا۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔