خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 288

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 288 لَهِ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ عَلَى مِرْجَلٍ وَفَاقَ قُلُوبَ الْعَالَمِينَ تَعَبُّدا وَتَوَرَّمَتْ قَدَ مَاكَ لِلَّهِ قَائِمًا وَمِثْلُكَ رَجُلًا مَا سَمِعُنَا تَعَبُّدا کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه : ۹۰-۹۳) قیام نماز ۶۷۹۱ء وہ وجود ایسا تھا کہ عبادت کے وقت اس کے سینے سے درد کے ساتھ اُبلتی ہوئی ہنڈیا کی طرح آواز آیا کرتی تھی فَاقَ قُلُوبَ الْعَالَمِینَ تمام انسانوں کے تمام جہانوں کے دلوں پر وہ ایک دل عبادت میں سبقت لے گیا۔پھر بے اختیار مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں میرے آقا! میرے محبوب ! تَوَرَّمَتْ قَدَ مَاكَ لِلَّهِ قَائِمًا تیرے پاؤں سوجا کرتے تھے اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر وَمِثْلُكَ رَجُلًا مَا سَمِعُنَا تَعَبُّد ا ہم نے تو تیرے جیسا عبادت کرنے والے آدمی کے متعلق سنا بھی نہیں کبھی۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔یہ وہ حضور اکرم ﷺ کا نمونہ تھا جو ہمارے لئے ہمارے سامنے قائم ہے ہمیشہ کے لئے۔اس نمونہ کو جماعت قائم نہیں کرے گی تو جماعت زندہ نہیں ہوسکتی۔اس نمونہ کو آپ قائم کریں تو آپ کی چند ہزاروں کی تکبیریں نہیں ساری کائنات کی تکبیر آپ کے ساتھ ہوگی۔ذرہ ذرہ کا ئنات کا اللہ کا نام بلند کرے گا آپ کے ساتھ اور کوئی دنیا کی طاقت آپ کو مٹا نہیں سکتی۔حضرت رسول اکرم ﷺ کے نمونہ کو صحابہ نے جس طرح پکڑا اس کی حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آنحضر ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوالدردائے بڑی غم اور بے قراری کی حالت میں گھر میں داخل ہوئے ام الدرداء نے پوچھا کہ کیا غم پہنچا ہے آپ کو؟ کیا تکلیف ہوگئی ؟ انہوں نے کہا مجھے تو یاد ہی نہیں کہ رسول اللﷺ کے زمانہ میں کوئی کوئی شخص بے جماعت نماز پڑھا کرتا ہو۔سارے اکٹھے تمام کے تمام باجماعت پڑھا کرتے تھے۔( کسی ایک کو دیکھ لیا ہو گا گلیوں میں پھرتا ہو نماز کے وقت ایسی بے قراری دل میں پیدا ہوگئی۔مسجد کا شوق ،مسجد کی محبت ایسی تھی ایک دفعہ رسول کریم مسجد میں آئے تو ایک رسی بندھی ہوئی دیکھی دو پولوں (ستونوں ) کے درمیان۔آپ نے کہا یہ