خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 287
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 287 قیام نماز ۶۷۹۱ء ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان کے متعلق یاد دلایا جاتا ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے اور ان کے پہلوان کے بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں اور اپنے رب کو اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اور اس کی رحمتوں کو حاصل کرنے کے لئے پکارتے ہیں۔اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔پہلو تو اس دنیا میں دوسرے لوگوں کے بھی الگ ہوا کرتے ہیں۔بدوں کے بدی کے لئے، نیکوں کے نیکی کے لئے مگر جس شان سے جس بے قراری سے سجدوں میں گرنے کے لئے گریہ وزاری کے لئے میرے آقا محمد مصطفی ﷺ کے پہلو بستر سے الگ ہوا کرتے تھے نہ پہلے کبھی دنیا میں ایسا دیکھا گیا اور آپ کے غلاموں کے سوا اس کی مثال اور بھی کہیں کوئی نظر نہیں آسکتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ رات میری آنکھ کھلی میں نے محمد مصطفی ﷺ کو بستر پر نہیں پایا۔عورت کی فطرت ہے خیال پیدا ہوا کہ شاید کسی اور گھر چلے گئے ہوں تو تلاش کے لئے بے قرار ہو کر باہر نکلیں۔ایک قبرستان کے پاس حضور کو اس حال میں پڑے دیکھا کہ وہ کہتی ہیں یوں لگتا تھا جس طرح چوغہ اتار کے کوئی پھینک دیتا ہے اس طرح بجز اور انکساری کے ساتھ خدا کے حضور بچھے ہوئے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے اس طرح حضور اکرم کے سینے سے آواز نکلی رہی تھی رونے کی ، اس طرح بے قراری کے ساتھ خدا کے حضور وہ عبادت کر رہے تھے۔(سنن ترمذی کتاب الصوم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باب ما جاء فی لیلتہ النصف من شعبان ) حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت اس قدر عبادت کیا کرتے تھے کہ عبادت میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔آپ کی یہ حالت دیکھ کر آپ سے کہا گیا کہ حضور! اس قدر کیوں تکلیف فرماتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گنا ہوں سے محفوظ کر دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اس نے تو اتنا احسان کیا ہے۔تو میں اس احسان کا شکریہ نہ ادا کروں۔( صحیح بخاری کتاب الجمعہ باب قیام النبی اللیل حتی تورم قد ماہ) یہی وہ مضمون ہے جس کو آپ کے عاشق کامل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح بیان فرمایا کہتے ہیں: