خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 281

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 281 قیام نماز ۶۷۹۱ء دروازے کو کھول دیا اور ہمیشہ کے لئے یہ دروازہ ہمارے سامنے کھلا ہے لیکن غور کی بات یہ ہے کہ کتنے ہیں ہم میں جو سروں کو جھکاتے ہوئے کبھی رکوع کرتے ہوئے کبھی سجدہ کرتے ہوئے اس دروازہ کے احترام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سڑک میں داخل ہوتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا بہت بلند دعوی ہے اتنا بلند کہ اس سے پہلے اس کائنات میں ایسا بلند دعوئی نہیں کیا گیا آنحضرت کی غلامی میں تمام غیر ادیان پر ہم نے غالب آنا ہے، تمام مشکلات کے پہاڑ کو سر کرنا ہے ہماری کچھ بھی حیثیت نہیں جب تک اس کامل عجز کے ساتھ ہم عبادت کے ڈھنگ نہیں سیکھیں گے ہمیں کوئی بھی ترقیات نصیب نہیں ہوسکتیں۔اس نکتہ کو اگر آپ نے بھلا دیا تو پھر دائیں اور بائیں تو بھٹکتے رہیں گے لیکن اس دروازے سے داخل ہو کر وہ ترقیات نہیں پاسکیں گے جس کا وعدہ اگلی آیت میں کیا ہے۔اس لئے یہ بہت ہی اہم مضمون ہے اور بہت ہی قابل فکر مضمون ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں احمدی دل ہیں جو دردمند ہیں، خون ہورہے ہیں اس غم میں کہ جماعت احمد یہ کی نئی نسل عبادت کا حق ادا نہیں کر رہی۔عبادت جو فرض ہے ، جو ظاہری برتن ہے وہ بھی پوری طرح مکمل نہیں کیا جارہا، یہ خیال کہ غیروں سے ہم بہت بہتر ہیں، یہ خیال کہ دوسروں کے مقابل پر ہماری مسجد میں زیادہ آباد ہیں یہ تسلی بخش خیال نہیں ہے۔اس سے اطمینان نہیں ہوسکتا ہمارے سامنے اسوہ غیر نہیں ہیں کہ جس کو دیکھ کر ہم یہ کہیں کہ ان سے ہم بہتر ہیں۔صلى الله ہمارے سامنے تو اسوہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے صحابہ ہیں اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور آپ کے صحابہ نہیں۔انہوں نے جس طرح عبادت کا حق ادا کیا اگر ہم اس طرح نہ کریں گے تو ہم ناکام رہنے والوں میں سے ہوں گے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک موقع پر فرمایا کہ دوسروں سے بہتر ہونے کا خیال کیا مطلب؟ اگر پانچ بھی احمدی ایسے ہیں جو نماز با جماعت نہیں ادا کر تے تو یہ قابل فکر بات ہے اور ساری جماعت کے لئے تشویش کا مقام ہے۔اس لئے اس اعلیٰ مقصد کو پیش نظر رکھ کر ان عاجزانہ باتوں کو سنیں جو میں آپ کی خدمت میں عرض کرنے لگا ہوں۔قرآن کریم میں جس کثرت سے نماز کا ذکر ہے اس کی تفاصیل کا تو موقع نہیں۔میں سب سے پہلے نماز با جماعت کے متعلق حضرت رسول اکرم ﷺ کا اسوہ تھوڑے سے عرصہ میں بیان کروں