خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 269
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 269 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء اور قطعی ہے کیونکہ اس وقت یہ سوال ہی نہیں ہوگا کہ انکو سلسلہ کی طرف سے ملتا کیا ہے؟ بلکہ وہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے دیوانہ وار نکل کھڑے ہونگے اور ہر قربانی کے لئے شرح صدر سے تیار ہونگے۔انہیں اگر پہاڑوں کی چوٹی سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ ہر پہاڑ پر سے گرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں گے۔انہیں اگر سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے کہا جائے گا تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔“ ایسے لوگ خدا نے آپ کو عطا کئے ، ایسے جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں خدا کی راہ میں پیش کر دیں، جن کو سلسلہ نے ہمیشہ کے لئے اپنی تحویل میں لے لیا۔ایسے بھی تھے شروع شروع میں جو راز خود نکل کھڑے ہوئے اس تحریک کا سن کر۔ان کا ذکر کرتے ہوئے بڑے پیار سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کئی جگہ مختلف خطبات میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ان میں سے ایک ولی داد خان تھے۔افغانستان کی سنگلاخ زمین میں جہاں پہلے بھی احمدیت عظیم شہادت کا خون چکھ چکی تھی۔یہ وہاں نکل کھڑے ہوئے۔شروع میں چند ماہ تک سلسلہ نے ان کو گزارہ دیا۔پھر وہ صورت پیدا نہیں ہوئی۔اپنے طور پر یہ دوائیاں بیچ کر کام کرتے رہے اور کچھ عرصہ کے بعد اسی سرزمین میں شہید ہو گئے۔ایک اور دوست تھے عدالت خان صاحب ایک نو جوان ضلع جہلم کے۔ان کو حضرت خلیفہ المسیح کا پیغام سن کر، ان بیچاروں کو پتہ نہیں تھا پاسپورٹ لینے کا وغیرہ۔یہ بھی سیدھا افغانستان پہنچے شوق شہادت لئے ہوئے کہ سب سے زیادہ مشکل سرزمین جہاں مجاہدین کی امنگیں پوری کی جاتی ہیں وہ افغانستان ہے۔وہاں گئے ، جاتے ہی حکومت نے ان کو قید کر لیا۔قید کی مشقتوں میں اتنی تبلیغ کی کہ اندر لوگ احمدی ہونے شروع ہو گئے۔نتیجہ حکومت نے تنگ آ کر انکو دوبارہ ہندوستان کی سرحد میں دھکیل دیا۔واپس آتے ہی ایک اور نو جوان کو تیار کیا اور کہا آؤ ہم اب چین چلتے ہیں، ترکستان کی طرف نکل کھڑے ہوتے ہیں اور کشمیر کے راستے ان کو لے گئے۔وہ تعلیم یافتہ تھے اورمحمد رفیق ان کا نام تھا۔انہوں نے تو پاسپورٹ وغیرہ بنوالیا۔ان کے پاس کچھ نہیں تھا اور یہ کشمیر کی سرحد سے جب گزرنے لگے تو پھر پکڑے گئے واپس دھکیل دیئے گئے۔کشمیر میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ جب داؤ