خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 265
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 265 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء دیئے۔اس کی زبان پشتو ہے اردو کے چند الفاظ ہی بول سکتی ہے۔اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اپنے ایک ایک کپڑے کو ہاتھ لگا کر کہا کہ یہ دو پٹہ دفتر کا ہے یعنی بیت المال نے مجھے صدقہ میں دیا ہے۔یہ پاجامہ دفتر کا ہے، یہ جوتی دفتر کی ہے، میرا قرآن بھی دفتر کا ہے۔میرے پاس کچھ نہیں ہے۔میری ہر چیز بیت المال سے ملی ہوئی ہے۔یہ دو روپے جو میرا سرمایہ حیات ہیں میں حضور کی خدمت میں پیش کرتی ہوں اسے قبول فرما ئیں۔“ حضرت صاحب فرماتے ہیں: 66 اس کا ایک ایک لفظ ایک طرف میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا۔دوسری طرف میرا دل اس محسن کے احسان کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے ایسی زندہ سرسبز روحیں پیدا کر دیں، شکر و اطمینان کے جذبات سے لبریز ہو رہا تھا اور میرے اندر سے یہ آواز آرہی تھی کی خدایا تیرا یہ مسیح کس شان کا تھا جس نے ان پٹھانوں کی جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے کس طرح کا یا پلٹ دی کہ وہ تیرے دین کے لئے اپنی ملک اور اپنے عزیز اور اپنے مال قربان کر دینے کو نعمت تصور کرتے ہیں۔“ (سوانح فضل عمر جلد ۲ صفحہ: ۹۴۳، ۰۵۳) یہ تو قربانیوں کے چند نمونے ہیں۔اموال ، زیورات کی اور بڑی بڑی جائیدادوں کی قربانیاں ہوں یا پھٹے پرانے کپڑوں کی ، بکریوں کی قربانیاں ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ابتدائی قربانیاں ہمیشہ کے لئے تاریخ احمدیت کا سرمایہ رہیں گی۔کروڑوں روپے تک اگر ہما را چندہ پہنچ چکا ہے۔وہ دن آئیں گے اور دور نہیں کہ اربوں سے زیادہ آپ کا چندہ ہوگا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ خدا کی محبت اور پیار کی نظریں ان دو بکریوں کی مالکہ پر ہمیشہ پڑتی رہیں گی۔اس غریب پٹھانی کو خدا کا پیار ہمیشہ نواز تارہے گا اور اس کے مقابل پر ان کروڑوں اور اربوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی جس کا جو کچھ تھا وہ صدقے میں تھا اس میں سے بھی جو کچھ اس نے بچایاوہ خدا کے حضور پیش کر دیا۔لیکن یہ ایک یا دو یا تین مثالوں کی بات نہیں ہے۔میں نے بڑی مشکل سے وقت کے لحاظ سے چند مثالیں چینی ہیں۔ہزارہا ، لاکھوں مثالیں ایسی قربانیوں کی ہیں جن کا ذکر تاریخ احمدیت میں بھی نہیں ملے گا۔کسی