خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 258

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت ئے گزرتی چلی آئی اور آج بھی گزر رہی ہے۔258 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء اس کی ابتداء کس طرح ہوئی ؟ سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے والے۔آپ کے غلاموں میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسی الاول کو یہ توفیق عطا فرمائی۔آپ یہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے، محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔“ فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۵۳) اور پھر ذکر کرتے ہوئے آگے فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک خاص روح کا ذکر کرتا ہوں اور وہ حضرت خلیفہ المسیح الاول حضرت حکیم مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ تھے۔آپ کے خط کا اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھو انکے اخلاص کا نمونہ انہوں نے مجھے لکھا: مولانا۔مرشد نا۔امامنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاتہ۔عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میر انہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔( فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۶۳)