خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 257
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 257 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء فَبَشَّرْنَهُ بِغُلْمٍ حَلِيْمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ الشَّعْرَ قَالَ يُيُنَيَّ اِنّى اَرى فِي الْمَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرى قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ الله مِنَ الصُّبِرِينَ (الصفت : ۱۰۲ ۱۰۳) ہم نے ابراہیم کو ایک پاک غلام کی خبر دی تھی جو حلیم تھا۔جب وہ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا، اس کے ساتھ دوڑنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے خواب میں یہ دیکھا اور اپنے بیٹے سے بیان کیا کہ اے بیٹے ! میں دیکھ رہا ہوں خواب میں میں نے دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں بتا تیرا کیا خیال ہے اس بارے میں؟ اس بیٹے نے عرض کیا یا بَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ تو بھی خدا کا ہے اور میں بھی خدا ہی کا ہوں ، جو تجھے حکم دیا جائے ویسا ہی کر سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ تو یقیناً مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔تو یہ دوسرا ابتلاء ہے جان اور مال کو خدا کی راہ میں حاضر کرنے کا جو طوعی ہے، دشمنوں کی طرف سے وارد نہیں ہوتا۔کر سکتا آنحضر کے زمانے میں یہ قربانیاں اپنی معراج کو پہنچیں اور ایک، دو یا تین کا تو یہ سوال نہیں سینکڑوں ماؤں نے اپنے لعل خدا کے حضور قربان کر دیئے۔اموال لٹا دیئے ، گلیوں میں گھسیٹے گئے ، آگیں ان پر بھڑ کا ئیں گئیں۔طرح طرح کے مصائب اور عذاب جن کا تصور انسان ہے ان پر وارد کئے گئے۔لیکن حضور اکرم کے تمام غلام یہی کہتے رہے کہ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ اے آقا ، اے مہ! تو ہمیشہ ہمیں صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔پھر یہ زمانہ آیا آج کا زمانہ جس میں حضورا کر کے فرزند جلیل ، آپ کا عاشق غلام اسی پیغام کو لے کر اٹھا۔آپ سے بھی اللہ نے کہا اسلم اے میرے بندے ! تو بھی اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے۔آپ نے عرض کیا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں ابراہیم کی طرح اور اپنے آقا محمد مصطفی ﷺ کی طرح تیرا ہی ہو چکا ہوں۔وہ تمام ابتلاء ، وہ تمام امتحان جو ابراہیم پر گزرے یا اس کے بعد بہت زیادہ شان اور وسعت کے ساتھ محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں پر گزرے ان تمام میں سے جماعت احمد یہ بڑی شان اور بڑے فخر کے ساتھ اور اپنے سر خدا کے حضور جھکائے ہو