خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 256
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 256 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء سب کچھ اس کا نہیں ہو جاتا۔آزمائشوں میں سے گزارا جاتا ہے ، بڑے بڑے ابتلاء آتے ہیں ، امتحان در پیش ہوتے ہیں پھر جو اس کا ہے جو حقیقی خدا کا ہے وہ چھن کر اور ابتلاؤں سے نکل کر نکھر کر اور صاف ستھرا ہو کر اس کا ہو جاتا ہے۔ان ابتلاؤں کا ذکر قرآن کریم نے اسی سلسلے میں فرمایا کہ ابراہیم نے جب اسلام قبول کر لیا اور سارے کا سارا اپنے رب کا ہو گیا تو اس کے بعد اس پر کیا گزری؟ فرمایا: قَالُوا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا أَلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرُ هِيمَ (الانبیاء: ۹۶، ۰۷) اس اسلام کی سزا ابراہیم کو یہ دی گئی کہ لوگوں نے شور مچا دیا حَرِّقُوهُ آگ بھڑ کا واور ابراہیم کو اسمیں پھینک دو وَ انْصُرُوا الهَتَكُمُ اور اپنے معبودوں کی فکر کرو، انکی مدد کر وا گر تم کچھ کر رہنے والے ہو ورنہ ابراہیم کا دین تمہیں کھا جائے گا۔ہم نے اس کے مقابل پر یہ فرمایا: قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرُ هِيمَ اے آگ ! تو میری بندی ہے تو ابراہیم اور اسکے ماننے والوں کو کچھ نہیں کہہ سکتی۔یہی وہ ابتلاء ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام میں بھی ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی بھی غلام ہے“۔( تذکرہ صفحہ: ۴۲۳) پھر ایک اور ابتلاء کا ذکر ہے فرمایا بعض ابتلاء تو مومنوں پر ایسے آتے ہیں جو دشمن ان پر وارد کرتا ہے۔بعض ایسے ہیں جو عشق کے تقاضے سے خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔مومن ان ابتلاؤں کی تلاش میں رہتا ہے مانگتا ہے اے خدا! ہم سے قربانیاں لے رَبَّنَا آرِنَا مَنَا سِكَنَا اے خدا! ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا جہاں ہم اپنا سب کچھ تیرے لیے فدا کر دیں۔اس قسم کے ابتلاؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: