خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 255
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 255 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانی ( بر موقع جلسه سالانه ۶۵۷۹۱) تشہد و تعوذ کے بعد آپ نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی : وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ اِبْرهِمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَاِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةٌ أَسْلِمُ " قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة : ۱۳۲،۱۳۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا ذکر بڑے ہی پیار سے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کون احمق ہے اپنی جان کو ہلاک کرنے والا جو ابراہیم کے دین سے اعراض کرتا ہے ! وہ اس دنیا میں بھی ہمارا ایک برگزیدہ شخص تھا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں شمار ہو گا۔وہ دین کیا ہے جس کا اس پیار سے ذکر کیا گیا ہے؟ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا خلاصہ یوں بیان فرمایا: إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةٌ أَسْلِمُ ، قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ کہ دیکھو اللہ نے اسے پکارا اور کہا اے ابراہیم! تو میرا ہو جا ،سب کچھ میرے سپرد کر دے۔ابراہیم نے عرض کیا اے آقا! میں تو تیرا ہی ہوں ، میرا سب کچھ پہلے ہی تیرے سپرد ہے۔یہ ہے اسلام کی وہ حقیقی تعریف جو قرآن کریم سے ثابت ہے اور وہ اسلام جو ابراہیم نے اختیار کیا۔لیکن یہ صرف زبانی اس کا دعوی نہ تھا، محض یہ کہہ دینے سے کہ میرا سب کچھ اے آقا تیرا ہو چکا