خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 248
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 248 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ء ہونے پر بھی ایمان رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ طریق فیصلہ کے مطابق جب ویدوں پر نظر ڈالیں تو اول تا آخر شرک سے بھرے پڑے ہیں لہذا آریوں کا حق نہیں بنتا کہ وہ اپنی الہامی کتب کی طرف خود ساختہ دعاوی منسوب کریں۔ان دونوں مثالوں پر نظر کرنے سے صاف کھل جاتا ہے کہ دراصل قرآن کے پیش کردہ دو خوبصورت دعاوی چوری کر لئے گئے تھے اور چورا ایسے دلاور تھے کہ دن دہاڑے چوری کا مال بغل میں دابے مالک سے لڑنے نکلے تھے۔کامیاب دفاع کے بعد شدید یلغار یہ بھی ایک عظیم جرنیل کی خصوصیت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فنِ جہاد کا یہ بہت اہم پہلو تھا کہ معاندین اسلام کے اعتراضات کا جواب دیتے وقت اسے ایک حد تک ڈھیل دیتے چلے جاتے تھے کہ وہ ہر امکانی حملہ کر کے دل کی بھڑاس نکال لے اور کوئی اعتراض نہ چھوڑے۔اس دوران اس کے ہر اعتراض در اعتراض کا ایسا مدلل اور مسکت جواب دیتے کہ ہر پڑھنے اور سننے والے منصف مزاج شخص پر اعتراضات کی لغویت اور اسلامی تعلیم کی حقانیت ثابت ہو جاتی تھی۔بالآخر جب معترض کے اعتراض کا ترکش خالی ہو جاتا تو اسلام کی طرف سے دفعہ شدید الزامی جواب کی کارروائی فرماتے اور سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر اسی قسم کے ہتھیاروں سے اس پر سخت تر حملہ کرتے جس قسم کے ہتھیاروں سے اس نے اسلام پر حملہ کیا تھا۔چونکہ دشمن اسلام کو زخم پہنچانے کے شوق میں پہلے ہی اپنے اعتراض کو غلط استعمال کر چکا ہوتا تھا اس لئے اس کے خلاف یہی ہتھیار بہت زیادہ قوت اور کامیابی کے ساتھ کام کرتا تھا اور فرار کی تمام راہیں اس پر بند ہو جاتی تھیں۔اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کا مطالعہ غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔مثال کے طور پر کثرت ازدواج پر دشمن اعتراض کرتا تھا۔اس کا بڑا سلجھا ہوا معقولی جواب دینے کے بعد اور اس تعلیم کا فلسفہ اور حکمت سمجھانے کے بعد پھر معترض کے اپنے معتقدات کے پیش نظر آپ ایسا الزامی جواب دیتے کہ اُسے منہ چھپائے نہ بنتی تھی۔معترض اگر عیسائی ہوتے تو انہیں انبیاء بنی اسرائیل خصوصاً حضرت داؤد علیہ السلام کی بیویوں کی تعدا د یاد دلائی جاتی ، اگر ہندو ہوتے تو حضرت کرشن کی سکھیوں کے ذکر کے ساتھ نیوگ کی تعلیم کا کچھ مزا ان کو چکھایا جاتا۔غرضیکہ ویسے ہی ہتھیار زیادہ تیز اور زیادہ ناقابل تردید صورت میں حضور علیہ السلام اسلام دشمنوں کے خلاف فرماتے۔