خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 247
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 247 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ء اور وہ ایک ہاتھ پر اٹھنا اور ایک ہاتھ پر بیٹھنا سیکھ گئے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک جرنیل کی حیثیت سے جنگی حکمت عملی کے موضوع پر روشنی ڈالتا ہوں۔یہ وہ زمانہ تھا کہ کیا یہود اور کیا عیسائی، کیا ہندو اور کیا سکھ ہر کس و ناکس عالم و جاہل اٹھتا تھا اور اسلام پر لغو اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دیتا تھا۔اسلام کے خلاف اسی نوع کا نہایت دل آزار لٹریچر اس کثرت سے شائع کیا جارہا تھا کہ بلا مبالغہ مطبوعہ صفحات کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے۔حکمت عملی کے ایک ہی وار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دونوں مسائل کا علاج کر دیا۔آپ نے اسلام کے مدمقابل تمام مذاہب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہم سب کے دعاوی میں یہ قدرے مشترک ہے کہ ہم اپنے اپنے دعوئی کے مطابق اپنے مذہب کی بنیاد الہام الہی پر قرار دیتے ہیں تو کیا ہم پر یہ پابندی لازم نہیں کہ ہم اپنے مذاہب کی طرف صرف وہی دعاوی اور خوبیاں کریں جن کی سند ہماری الہی کتب میں ملتی ہوں اور دوسرے کی طرف جو بات منسوب کریں اسے بھی اس کی الہامی کتاب سے نکال کر دکھانے کے ذمہ دار ہوں۔یہ بظاہر سادہ اور معمولی سی پیشکش تھی لیکن دشمنان اسلام کے لئے ایک ایسا لقمہ اجل ثابت ہوئی جو نہ اس سے اگلا جاتا تھا نہ نگلا جاتا تھا۔لغو اعتراضات کا غوغا اور بے جا اعتراضات کا شور ان کے حلقوں میں پھنسنے لگا۔نہ جائے رفتن رہی نہ پائے ماندن۔اسے قبول کرنا اس لئے مشکل تھا کہ بہت سی خوبیاں جو وہ اپنے مذاہب کی بیان کرتے تھے اور بہت سے حسین دعاوی جو اپنے مذہب کی طرف منسوب کرتے تھے ان کا کوئی ذکر ان کی الہامی کتاب میں موجود نہ تھا۔حقیقتاً وہ اسلامی تعلیم ہی کی چوری تھی مثلاً عیسائیت ایک عالمگیر مذہب ہونے کا دعوی کر رہی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام کو تمام دنیا کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ اصول کو تسلیم کرنے کی صورت میں عیسائیت کا یہ دعویٰ بائبل سے نکال کر دکھانا پڑتا تھا جہاں ایسا کوئی بھی ذکر موجود نہیں۔لہذا کسی مزید بحث کا سوال ہی باقی نہیں رہتا تھا۔اگر عیسائی اس پیشکش کو قبول نہ کرتے تو ان پر مدعی ست اور گواہ چست ہونے کا محاورہ صادق آتا تھا۔آریہ مت پر اس اصول کو چسپاں کر کے دیکھیں کہ تو وہاں بھی یہی دلچسپ نقشہ نظر آتا ہے۔آریہ مت ہندوؤں کا وہ فرقہ ہے جو تو حید الہی کا قائل ہے ساتھ ہی یہ فرقہ چاروں ویدوں کے الہامی