خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 233

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 233 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء اخبار زمیندار لاہور نے لکھا: وہ آواز آج بھی فضا میں گونج رہی ہے جو فاران کی چوٹیوں سے بلند ہوئی اور دنیا کے ہر مظلوم کو سر بلند کر کے ہر سج رو ظالم کو راستی کی راہ پر چلنے پر مجبور کرگئی۔سماج کو آج پھر ان کانوں کی احتیاج ہے جو اس آواز کو سن سکیں اور اس پر لبیک کہیں پستیوں کو رفعتوں سے بدل دینے والا انقلاب آج اسی آواز پر لبیک کہنے والے کی جنبش قدم کا منتظر ہے۔پھر ایک اور مسلمان عالم نے لکھا: یا رسول اللہ ! اب عقل اور اسباب ظاہری کا سہارا جاتا رہا، قومی بے کار ہو گئے ، ہمتیں پست ہو گئیں۔خونخواران تثلیث نے ان کو قعر مذلت میں اس طرح دھکیل دیا کہ اب پھر ابھرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اے نبی اللہ بتائیے کہ شکستہ دل اور زخموں سے چور امت اپنے درد کی دوا کہاں پائے گی اور کیونکر امام موعود علیہ السلام کے حضور اپنی فریاد پہنچائے گی۔اب دل کے زخم کی تپش اور سوزش نا قابل اظہار ہو چکی ہے۔66 کاش انہیں نور بصیرت عطا ہوتا ! وہ اس درجہ محرومیوں اور حسرتوں اور اندھیروں میں نہ بھٹکتے پھرتے اور اسلام میں احیائے نو کی اس عظیم تحریک میں شامل ہو کر جو مسیح دوران نے ان کے لئے جاری کی ، خدمت دین کی حسرتیں دل کھول کر پوری کر لیتے۔پس اے خلافت محمدیہ کے جاں نارو! جو شمع خلافت محمدیہ کے گرد آج اس میدان میں پروانوں کی طرح جمع ہوئے ہو، اس عظیم روحانی اجتماع میں شرکت کرنے والی اے سعید روحو! جو زمین کے کناروں سے اس مرکز خلافت میں جمع ہوئی ہو، تمہیں تو وہ بستان احمد کے گل بوٹے ہو جن کی سر بلندی اور شادابی کی خوشخبریاں مسیح موعود نے دنیا کو دیں۔وہ تم ہو جن پر نسیم رحمت پھر سے چلی ہے اور وقت خزاں میں جن پر عجب طرح کی بہار آگئی ہے۔تم اسی خزاں رسیدہ چمن سے پھوٹنے والی نو بہار شاخیں ہو جن کے روکھ دنیا کی نظر میں جلانے کے قابل ہو چکے تھے۔سوسنو اور خوب اچھی طرح اسے اپنی عقل و فراست کی گانٹھوں میں باندھ کر محفوظ کر لو کہ تمہاری یہ شادابی اور تمہاری یہ۔