خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 232

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 232 اسلام کی نشاۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے ۳۷۹۱ء کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ تو حید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آئیں یہ دن اور یہ بہار سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بد خواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پر وار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس وہ کرتا ہے پیار میں وہ پانی ہوں کہ اترا آسماں سے وقت پر میں ہوں وہ نور خدا جس سے ہوا حق آشکار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار براھین احمدیہ جلد پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه: ۱۲۷-۱۳۷) لیکن افسوس یہ مسیح زندگی کا پیغام دے کر چلا گیا۔امام مہدی ظاہر ہوا اور ہدایت کے سرچشمے کھول گیا لیکن بعض بد قسمت دیکھنے کے باوجود ان دیکھوں کے طرح رہے اور معلوم ہونے کے باوجود انجان بنے رہے۔وہ آج تک ان حسرتوں کا شکار ہیں، آج تک ان دکھوں نے ان کے دلوں کو چھلنی کر رکھا ہے جن سے آپ نا آشنا ہیں۔آپ کے دل مسیح محمدی نے مسرتوں سے بھر دیئے ہیں ، آپ کے دل امنگوں سے بھر دیئے گئے ہیں لیکن کروڑوں ایسے بد قسمت ہیں جنہوں نے اس مسیح کو نہیں پہچانا اور آج تک ان کی گریہ وزاری کی آواز بلند ہورہی ہے اور وہ چیخ و پکار رہے ہیں۔