خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 189

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 189 حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ( براھین احمدیہ حصہ سوم صفحه: ۳۰۵) قرآن صرف مارنے کی طاقت نہیں رکھتا ، غلط کو مارتا ہے اور صحیح کو زندہ کرتا ہے اور تفسیر کبیر میں یہ نظارہ آپ دیکھ سکتے ہیں کس طرح موتیں ہوتی ہیں غلط آدمیوں کی اور کس طرح صحیح لوگ زندہ کئے جاتے ہیں۔کس طرح غلط نظام مارے جاتے ہیں اور کس طرح صحیح نظام دنیا میں زندہ کر کے پیش کئے جاتے ہیں۔یہ تفسیر کبیر میں بھی ملتا ہے اور بے شمار کتب حضور کی۔وقت نہیں ہے اس وقت تفصیل کا نام پڑھنے کا بھی وقت نہیں رہا اس وقت۔قرآن کریم کو زندہ کتاب کے طور پر پیش کرنے کے سلسلے میں آپ نے کئی پہلو اختیار کئے ایک خلاصہ میں آپ کے سامنے پڑھ کے سناتا ہوں آپ نے فرمایا کہ اس زمانے کی تمام خبریں اس قرآن کریم میں موجود ہیں یہ ہمارے زمانے کی باتیں کرتا ہے۔چودہ سوسال پرانی کتاب نہیں ہے۔جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے قرآن ختم ہو گیا ہے اور چودہ سو سال پرانی فرسودہ کتاب ہے۔یہ تو آج کی ساری خبریں بڑی تفصیل سے بیان کرتا ہے۔فرمایا دیکھو قرآن کریم میں پریس کی ایجاد کا ذکر ہے علم معیشت کی غیر معمولی ترقی کی خبر ہے، علم طبقات الارض کا ذکر ہے۔فرعون موسیٰ کی جو لاش دریافت ہوئی ہے آج آکر ، اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔یہاں تک تفصیل میں قرآن کریم جاتا ہے کہ چڑیا گھروں کے قیام کی بھی خبر دیتا ہے۔ایک وقت ایسا آئے گا جب بہت سے جانور ا کٹھے کئے جائیں گے اور چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔پھر اس سے بڑی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں نہر سویز اور نہر پانامہ کا ذکر اس میں موجود ہے کہ سمندر ملائے جائیں گے نہروں کے ذریعے۔وہم و گمان بھی کسی کو نہیں تھا۔دخانی جہازوں کا ذکر ہے، ریل گاڑیوں کا ذکر ہے، موٹر کاروں کا ذکر ہے، ہوائی جہازوں کا ذکر ہے، ہوائی جہاز جو پیغام پھیلایا کریں گے دنیا میں، جو بم گرایا کریں گے ان کا ذکر ہے، ایٹم بم کا ذکر ہے ، ہائیڈ روجن بم کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ ان سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار ایجادہوں گے، کلمک ریز (Cosmic Rays) کا ذکر ہے۔پھر یوروپین اور روسی اقوام کی ترقی اور بالآخر ان کی ہلاکت کی پیش گوئیاں موجود ہیں،اسرائیل کے قیام اور بعد ازاں مسلمانوں