خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 187
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 187 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء ثبوت دیا ہے۔قرآن کریم کو دیگر کتب مقدسہ خصوصاً بائبل کے مقابل پر آپ نے اتنی نمایاں فضیلت کے ساتھ پیش کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کوئی موازنہ ہی باقی نظر نہیں آتا۔قرآن کریم کی فضیلت کے رنگ میں آپ نے شوکتِ کلام اور فصاحت اور بلاغت کے نقطہ نگاہ سے بھی فضیلت ثابت فرمائی۔تاریخی نقطہ نگاہ سے بھی بائبل کی اغلاط بتا ئیں اور قرآن کریم کے ہر تاریخی بیان کی صحت کو ثابت فرمایا۔پھر عقلی نقطۂ نگاہ سے بائبل کے تضاد دکھائے اور قرآن کریم کے متعلق جو تضاد کے دعوے تھے ان کو غلط ثابت فرمایا۔فطری نقطہ نگاہ سے آپ نے بائبل کی تعلیم کو موجودہ دنیا کے لحاظ سے غیر فطری قرار دیا اور قرآن کریم کی تعلیم کا فطری ہونا ثابت فرمایا۔قانونِ قدرت کے راز دان ہونے کے لحاظ سے آپ نے بتایا کہ بائبل تو بے شمار ایسی باتوں سے ،غلطیوں سے بھری پڑی ہے جن کو خدا کی طرف منسوب ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ کائنات قدرت کی ایک غلط تشریح پیش کرتی ہے لیکن قرآن ہر بات پر گہری نظر رکھتا ہے اور اسی خدا کا کلام ہے جس خدا نے قانون قدرت کو پیدا فرمایا۔یہاں یہ غلط نہی نہیں ہونی چاہئے کہ بائبل بھی تو خدا کا کلام تھا اس لئے بائبل میں غلطیاں کیسے آگئیں؟ حضور نے ثابت فرمایا کہ بائبل خدا کا کلام تھا ضرور لیکن انسانی دست برد سے محفوظ نہیں رہا اور پھر اس شان کا کلام نہیں تھا جس شان سے کا یہ نبی تھا جس پر یہ قرآن اتارا گیا۔موسی جس شان کا نبی تھا اس کے مقابل پر محم عرب بہت ہی عجیب اور بلند تر مقام رکھتے تھے۔کوئی نسبت ہی نہیں تھی آپ دونوں کے درمیان۔وہی نسبت، وہی موازنہ ہمیں آپ کے اور آپ کے کلام میں بھی نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر میں چند سائنسی انکشافات آپ کو بتاتا ہوں جو حضور نے قرآن کریم سے مثال کے طور پر دنیا کے سامنے پیش فرمائے ہر چیز کا نرومادہ ہونا، زمین کا گول اور متحرک ہونا، اجرام فلکی میں دوری حرکت کی صحیح تصویر، اعمال انسانی کے مکمل ریکارڈ رکھے جانے کا حیرت انگیز نظام، رنگوں کے خواص، سورج کی روشنی کا ذاتی اور چاند کی روشنی کا انعکاسی ہونا، زمین و آسمان کی تخلیق کا مختلف ادوار میں ہونا مختلف اجرام شمسی کے مابین جو کشش ثقل کے غیر مرئی ستون نظر آتے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں، زمین کے علاوہ دیگر سیاروں میں زندگی کے پائے جانے کے امکانات اور یہ خبر کہ ایک دن دنیا کی زندگی غیر دنیا وی سیاروں کی زندگی کے ساتھ مل بھی جائے گی۔یہ تمام انکشافات اور ان کے علاوہ بہت سے ، یہ چند مثالاً میں آپ کے سامنے پڑھ کے سنا رہا ہوں۔