خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 180

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 180 حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء پیش کرنے کے لئے بہترین چیز چاہئے۔یہ نہ کیا کرو کہ اپنے کمزور بچے، ذہنی لحاظ سے کمزور یا دنیاوی لحاظ سے جسمانی لحاظ سے کمزور ہوں وہ خدمت کے لئے پیش کیا کرو اور آج جو قربانی کرے گا اس راہ میں اس کے لئے ہمیشہ ہمیش کا ایک نہ مٹنے والا فخر ہوگا۔چنانچہ مثال کے طور پر حضور کے تیرہ لڑکے تھے تیرہ کے تیرہ حضور نے وقف کر دیئے۔میں جب گورنمنٹ کالج سے فارغ ہو کر یہاں آیا تو حضور نے مجھے بلا ک خود فرمایا کہ دیکھو میں نے تو تم لوگوں کو دین کی خدمت کے لئے ہی پیدا کیا ہے اور اسی لحاظ سے میں تمہیں آئندہ دیکھنا چاہتا ہوں اور میں تمہیں جامعہ احمدیہ میں داخل کروانا چاہتا ہوں، پھر مولوی فاضل کی تعلیم بھی دلواؤں گا تا کہ دین کی خدمت کے قابل بن سکو ، دنیا کی تعلیم تو کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور یہ بات حضور نے اپنے سب بچوں سے کہی کسی ایک کو منتقی نہیں کیا۔تو جو کچھ آپ کو عطا ہوا وہ ہوا بھی خدمت قرآن کے لئے تھا اور کم سے کم آپ نے انتہائی اخلاص کے ساتھ وہ سب کچھ پیش کر دیا۔اگر ہم اپنی بدقسمی سے اس قابل نہ ہو سکیں تو یہ ہمارا قصور ہے لیکن مصلح موعودؓ نے خدمت کا حق جہاں تک ممکن تھا وہ ادا کیا اور ساری زندگی ادا کرتے رہے۔دنیاوی علوم کے ماہرین کو پکڑ کر جب آپ نے خدمت قرآن پر مسخر کیا تو اس کے لئے بے شمار اخراجات کی ضرورت تھی ، دنیا میں ایک عظیم الشان نظام قائم کرنے کی ضرورت تھی، لائبریریوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ ان تمام امور کی طرف آپ نے توجہ کی اور اپنی تقاریر کے ذریعے اس بے پناہ جذبہ خلوص کے ذریعے جو آپ کے دل میں موجزن تھا آپ نے جماعت کے دلوں کو بھی پگھلایا اور خدمت قرآن کے لئے تیار کیا۔بے شمار قربانیاں دیں اس سلسلہ (احمدیہ ) نے اس راہ میں۔اپنے بچوں کو اپنے خرچوں پر تعلیم دی۔بے شمار ایسی مثالیں ہیں ،غریب خاندانوں نے جن کے لئے دنیا میں بظاہر وہی سہارا تھا۔سب دنیا کی لالچیں ترک کر دیں ، ٹھوکر میں ماریں ان کے منہ پے اور اپنے پر وردہ بچوں کو حضور کی خدمت میں دین کی خدمت کے لئے پیش کرتے رہے۔پھر مالی قربانی میں ایسی مثال قائم کی کہ دنیا کے پردے پر ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی مسلسل ان تھک مالی قربانی ، ہر آواز پر لبیک کہا، اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے کونے کونے میں یہ قرآن کے خادمان پہنچ چکے ہیں۔صرف چند نام میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جن میں مشن قائم ہیں۔انگلینڈ، ہالینڈ ، مغربی جرمنی ، سوئٹزرلینڈ ، ڈنمارک، سپین، امریکہ ،ٹرینیڈاڈ۔یہ وہ جگہیں ہیں جن میں