خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 149

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 149 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء کرنے والوں سے بڑھ کر عطا کرنے والا ہے؟ کیا وہ خدا جو خود کہتا ہے میرے بندو! مجھ سے مانگو میں عطا کروں گا؟ پھر یہ بھی تو دیکھو کہ یہاں تو مانگنے والا ایک برگزیدہ نبی تھا کوئی عام بوڑھا نہ تھا۔خدا کی قسم آنحوی تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ میرا رب اتنا فیاض ہے اور ایسی حیا والا ہے کہ جب کوئی بھی عمر رسیدہ بندہ اس سے مانگتا ہے تو بسا اوقات اس کے بالوں کی سفیدی سے حیا کھا کر وہ اس کی مراد کو پوری کر دیتا ہے۔آداب دعا میں سے ایک اہم ادب صبر ہے اور وہ انسان جو بے صبر اور چھوٹے ظرف کا ہو اور تھوڑی سی آزمائش کو بھی برداشت نہ کر سکے وہ اس عالی دربار تک رسائی نہیں پاتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلاء پر ابتلاء آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلاء بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ : ۷۰۷ ) امت محمد ع میں سے ایک بزرگ کا قصہ اس ضمن میں بیان کے لائق ہے۔کہتے ہیں کہ ایک بزرگ ہر شب تہجد کے وقت ایک خاص دعا مانگا کرتے تھے لیکن اسی وقت انہیں اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ جواب ملتا تھا کہ ہم نے یہ تیری دعا رد کر دی ہے۔ایک دفعہ ان کا ایک ارادت مند صحبت صالحہ کا فیض پانے کے لئے ان کے ساتھ تہجد کی نماز ادا کرنے لگا چنانچہ جب بعد از دعا ان کو یہ الہام ہوا کہ ہم نے یہ دعا رد کر دی ہے تو مشیت الہی سے اس مرید کے کانوں میں بھی یہ آواز پڑی۔دوسری شب پھر یہی ماجرا گز را اور تیسری شب پھر یہی ماجرا گزرا۔اس پر وہ خام کا را رادت مند مزید صبر نہ کر سکا اور عرض کیا یا حضرت تین راتوں سے میں یہ ماجرا دیکھ رہاں ہوں کہ آپ ایک دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اسے روفرما دیتا ہے پھر میں نہیں سمجھ سکا کہ کس پر تے پر آپ بار بار وہی دعا کرتے ہیں۔اس بزرگ کی طبیعت پر یہ سوال ناگوار گزرا اور بڑے جوش سے فرمایا کہ اے کم ظرف اور بے صبرے! تو صرف تین دن میں گھبرا گیا، اللہ کی قسم میں مسلسل بارہ سال سے بلا ناغہ یہ دعا