خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 148
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 148 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه: ۲۱) اس غیر متزلزل یقین اور اپنے رب پر حسن ظن کی ایک نہایت پیاری مثال قرآن کریم میں حضرت زکریا کی دعا کی صورت میں بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيَّا قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْئًا وَ لَمْ أَكُن بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّان (مریم:۳-۵) یعنی اے میرے بندے! ہم تیرے رب کی رحمت کا ذکر چھیڑ رہے ہیں جس کا ایک بندہ زکریا بھی تھا وہ وقت عجیب سوز و گداز کا حامل تھا جب اس نے راز کے پردوں میں اپنے رب کو آواز خفی سے پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب ! میں تو اس حد تک عمر رسیدہ ہو چکا ہوں کہ میری ہڈیاں بھی کمزور پڑگئیں اور بڑھاپے کی سفیدی سے میرا سر آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک اٹھا ہے لیکن باوجود اس کے اے آقا! میرا یقین متزلزل نہیں کیونکہ آج تک میں تیرے حضور میں گریہ وزاری کے نتیجے میں شقی اور محروم نہیں رہا۔یہ نمونہ ہے ان مقبول دعاؤں میں سے ایک دعا کا جو غیر متزلزل یقین اور حسن ظن کے ساتھ عبادالرحمن اپنے رب کے حضور کرتے ہیں پھر بتاؤ بھلا کیسے وہ کریم ذات انکار کرے؟ ایک بوڑھا جس کی ہڈیوں میں دم خم باقی نہیں اور سر کا ایک ایک بال سفید ہو چکا ہے دعا یہ مانگ رہا ہے اور خدا معلوم کتنے لمبے عرصے سے مانگ رہا ہے کہ اے میرے رب ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو تیری رضا کی راہوں پر چلنے والا اور برگزیدہ ہو۔عمر کی ہر سانس کے ساتھ ظاہری اسباب کے لحاظ سے قبولیت دعا کا امکان کم تر ہوتا جا رہا ہے اور بیٹے کی پیدائش ایک امر موہوم بن رہی ہے۔ہڈیوں کی کمزوری بڑھ رہی ہے اور سر کی سفیدی گاڑھی ہو کر آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک اٹھی ہے لیکن یقین کامل پر آنچ تک نہیں آئی اور اللہ اللہ پھر مانگا بھی کس ناز اور ادا کے ساتھ ہے کس زعم کے ساتھ ہے کہ آقا بھلا مجھے کیوں یہ وہم آنے لگا کہ میرا بڑھاپا تیری قدرت کاملہ کے اختیار سے بڑھ جائے گا۔میں تو آج تک تیرے در سے محروم نہیں پھرا اور کبھی بھی میرے نامے میں یہ بدبختی نہیں لکھی گئی کہ تیری ذات کریم سے مانگ کر خالی ہاتھ لوٹ آؤں۔اب بتائیے کون ہے جو اس دعا کور د کر سکے؟ کیا وہ خدا جوسب عطا