خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 147
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 147 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء پر تیر ہرگز تسلط نہیں ہوسکتا! اور اے میرے بندے محمدؐ! تیرا رب کارسازی میں تیرے لئے کافی ہے۔یہ ہے وہ خوش بخت عبادالرحمن کا گروہ جو قبولیت دعا کے وعدے کا حقیقی مصداق ہے لیکن یہ گمان کر لینا بھی خطا ہے کہ محض خشک صالحیت کا جامہ پہن لینا ہی قبولیت دعا کے لئے کافی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ تو عشق و محبت کا ایک زندہ اور پیچ در پیچ تعلق ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ بندہ تو شحن کے مقام پر کھڑا ہو جائے اور معبود فَيَكُونُ کے انتظام میں مصروف رہے۔یہ تو دوطرفہ ناز و نیاز کا تعلق ہے اور عجیب در عجیب افسانہ ہائے ہجر و وصل اور مناجات اور زاری اور قدم تھا منا اور قدم چومنا کبھی ماننا اور کبھی منوانا۔یہ تمام واردات فلسفہ دعا کی کنہ میں شامل ہیں۔قبولیت دعا کے آداب کا مضمون بہت ہی وسیع ہے اور اس کا احاطہ کرنا ایک ناقص العلم انسان کے بس کا روگ نہیں بھلا کون ہے جو ان اداؤں کا احاطہ کر سکے جو معشوق کو پسند آتی ہیں اور عشاق کی قسمت سنوارنے کا موجب بنا کرتی ہیں۔پس آج کی مجلس میں محض نمونہ جستہ جستہ بعض بنیادی آداب دعا کا ذکر کروں گا جو دعا کی قبولیت میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان میں سے ایک یقین کامل ہے۔جب تک دعا گو بندہ اپنے رب کی لامتناہی قوتوں پر کامل ایمان نہ رکھتا ہو اور یہ یقین نہ رکھتا ہو کہ میرا رب ضرور میرے حال پر رحم فرمائے گا دعا میں وہ قوت اور جان پیدا نہیں ہوتی جو تقدیر الہی کی محرک بنا کرتی ہے چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: ” جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رویت سے ہے نہ بطور قصہ کے۔۔۔۔۔۔تیرا خدا وہ ہے جس نے بے شمار ستاروں کو بغیر ستون کے لٹکا دیا اور جس نے زمین و آسمان کو محض عدم سے پیدا کیا۔تو کیا تو اس پر بدظنی رکھتا ہے کہ وہ تیرے کام میں عاجز آجائے گا؟ بلکہ تیری ہی بدظنی تجھے محروم رکھے گی۔ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں۔مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق