خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 143

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 143 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء سے ان کا نام کا ٹا جاتا ہے چنانچہ قبولیت دعا کے اس فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيْبَةٍ وَفَرِحُوْا بِهَا جَاءَ تْهَا رِيحُ عَاصِفُ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيْطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ : لَبِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَتَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ فَلَمَّا أَغْجُهُمْ إِذَاهُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (یونس : ۲۳ ۲۴) وہ خدائے کریم ہی ہے جو تمہیں تو فیق دے کر خشکی اور تری میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ عمدہ ہوا کے ذریعے سے ان لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہوتی ہیں اور وہ ان پر اترار ہے ہوتے ہیں۔تو ان پر ایک تند و تیز ہوا آجاتی ہے اور ہر طرف سے موج پر موج ان پر چڑھ آتی ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہلاکت کا وقت آ گیا۔تو ایسے وقت میں وہ اپنی اطاعت کو خدا کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ ! اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دی تو ہم ضرور ہی تیرے شکر گزار بندوں میں ہوں گے پھر جب وہ انہیں اس عذاب سے نجات دے کر خشکی پر پہنچا تا ہے تو وہ جھوٹ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔رب اور بندے کے درمیان یہ عظیم احسان اور سخت ناشکری کا معاملہ صرف سمندروں کا ہی معاملہ نہیں بلکہ خشکی پر بھی بار ہا خالق اور مخلوق کے مابین یہی ماجرہ گزرتا ہے چنانچہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِةٍ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَابِمَا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَانْ لَّمْ يَدْعُنَا إلى ضُرِ مَّسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُونَ (يونس:١٣) یعنی جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پہلو کے بل لیٹا ہوا یا بیٹھا ہو یا کھڑا ہوا ہمیں