خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 138
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 138 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء دے اور مَتی نَصْرُ الله کے جواب میں اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ (البقرة :۵۱۲) کا مژدہ نہ سنائے ؟ نہیں نہیں یہ ہرگز ممکن نہیں مضطر کی چیخ و پکار کو وہ سنتا ہے اور سنتا آیا ہے اور اس کے وہ بندے جو اس کے سایہ عاطفت میں پلتے ہیں اور اسی کی انگلی پکڑ کر چلنے کے عادی ہوتے ہیں ایسے نڈر اور ایسے بے خوف ہو جاتے ہیں کہ کھلے بندوں اپنے بظاہر بڑے بڑے طاقت ور دشمنوں سے بھی بڑی شوکت اور جلال سے للکارتے ہیں کہ سر سے لے کر پاؤں تک وہ یا ر ہے مجھ میں نہاں اے میرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار براهین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه : ۱۳۳) قرآن کریم کی متفرق آیات فلسفہ دعا کو مختلف پیراؤں میں بیان کرتی ہیں لیکن ان میں ایک مرکزی حیثیت کی آیت ایسی ہے جو اعجازی طور پر نہایت اختصار مگر حیرت انگیز کمال کے ساتھ اس مضمون کو بیان کر رہی ہے وہ آیت یہ ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: ۱۸۷) یعنی اے میرے بندے! جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو ان سے کہہ دے میں قریب ہوں۔جب مجھے کوئی خلوص نیت کے ساتھ پکارنے والا پکارتا ہے تو اس کا جواب دیتا ہوں پس ان پر بھی لازم ہے کہ میری ہدایات پر عمل کریں اور مجھ پر کامل ایمان لائیں تا کہ ہدایت پانے والے ہوں۔اس آیت میں وضاحت کے ساتھ قرب الہی اور قبولیت دعا کے تین مدارج کا ذکر ہے اور آنحضور نبی اکرم کو جو تمام بنی نوع انسان میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب تھے عبد کامل کی حیثیت سے اس امر پر مامور فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے تمام دیگر بندگان خدا کو ایک مردہ وصل عام سنا دیں۔اس آیت کے پہلے حصے کا تعلق اس پہلو سے بلا امتیاز مذہب وملت تمام بنی نوع انسان سے ہے کہ عبد کا ابتدائی معنی سب پر صادق آتا ہے اور جہاں تک جسمانی لحاظ سے