خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 137

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 137 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کا فلسفہ سمجھانے کے لئے جو ماں کی اپنے بچے سے تعلق کی مثال دی ہے یہ اپنے اندر گہری حکمتیں رکھتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر خالق کو اپنی تخلیق سے پیار ہوتا ہے خواہ کیسی ادنی درجہ کی ہی کیوں نہ ہو۔صناع اپنی صنعت سے پیار کرتے ہیں ، مصور اپنی تصویروں سے، شاعر اپنے اشعار سے اور افسانہ نگار اپنے افسانوں سے۔اپنی تخلیق سے پیار کا یہ جذبہ بڑوں میں بھی نظر آتا ہے اور چھوٹوں میں بھی۔آپ نے دیکھا نہیں کہ بچے مٹی کے بے ہنگم کھلونے بنا کر اپنی صنعت کی کیسی کیسی داد چاہتے ہیں جب کہ ویسے ہی کھلونے اگر بازار سے آپ ان کو لا کر دیں تو وہ اٹھا کر زمین پر دے پیٹھیں اور واویلا کریں یہ کیا اٹھا لائے؟ اسی طرح وہ بچے جو بسا اوقات باورچی کے اچھے اچھے کھانوں کو بھی پسند نہیں کرتے جب آپ چھوٹی سی ہنڈیا میں ادھ پکے یا کیچڑ بنے ہوئے چاول پکاتے ہیں یا غیر متناسب اوزان میں نمک مرچ گھی اور گوشت وغیرہ کو سینک دلا کر اس کا نام سالن رکھ دیتے ہیں تو خود بھی کس مزے سے اسے کھاتے ہیں اور ماں باپ کے منہ میں بھی زبردستی ٹھونستے ہیں پھر یہ تقاضا بھی جاری رہتا ہے کہ مزیدار پکا ہے نا؟ پس جب ادنی ادنی خالق اپنی ذلیل اور بے حقیقت تخلیق سے بھی ایسا پیار کرتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کامل ذات جو احسن الخالقین ہے اپنی کامل تخلیق سے پیار نہ کرے؟ خالق اور مخلوق کا یہی وہ رشتہ ہے جو ماں کو اپنے بچے کے ادنیٰ سے اضطراب پر بھی بے قرار کر دیتا ہے۔حقیقی خوف تو کیا خواب میں بھی اگر وہ ڈر کر جینے تو ماں کا کلیجہ دھڑکنے لگتا ہے اور وہ اسے سینے سے چمٹاتی ہے اور تھ پکاتی ہے اور واری جاتی ہے۔پھر کیا حقیقی خوف کی چیخوں پر آپ نے نہیں دیکھا کہ مائیں کس طرح اپنے بچوں کی طرف لپکتی ہیں اور کمزور اور نا تواں دل والیاں جو اپنے گھر کی محصور چار دیواری میں بھی اندھیرے سے ڈرتی ہیں جب اپنے خطرات میں گھرے ہوئے بچے کی دردناک پکار سنتی ہیں تو بھری ہوئی غضب ناک شیر نیوں کی طرح بے خوف اور مجنونانہ اپنے بچے کو بچانے کے لئے خطرات کی جانب جھپٹتی ہیں۔انسان تو انسان بے زور اور نا تواں چڑیوں کو بھی ہم نے دیکھا ہے کہ اپنے بچوں کو بچانے کے لئے سیاہ فام کو وں کی طرف لپکتی ہیں۔پس تخلیق کے یہ چھوٹے چھوٹے اور ادنیٰ حقیر رشتے اگر مجازی مخلوق کی پکار پر خالق کے دل میں قبولیت کا یہ جوش پیدا کرتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خالق حقیقی اپنی مخلوق سے ایسا بے نیاز ہو جائے کہ ایک مضطر کی آہ و پکار پر انّي قَرِيب (البقرة :۷۸۱) کی آواز نہ