خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 127
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 127 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟ ۷۶۹۱ء ہیں اور اسلامی روحانی اقدار کی حفاظت کے لئے ایک ایسے عظیم الشان دفاعی نظام کے مشابہ ہیں، جس میں قلعوں کے بعد قلعے ایک دوسرے کی پشت پناہی کر رہے ہوں۔یہ عظیم الشان اور مکمل نظام روحانی جو خلافت راشدہ احمدیہ کے ذریعہ دنیا کو عطا ہوا کوئی معمولی معجزہ نہیں۔تیرہ صدیوں تک مسلمان ایک کے بعد دوسرے تنزل کی جانب اترتے رہے اور تیرہ طویل صدیوں تک اسلام کی تصویر غیروں کی نظر میں بگڑتی چلی گئی۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوی اور دائمی قوت قدسیہ کا سہارا نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ کی ابدی نصرت کا وعدہ شامل حال نہ ہوتا ، تو کبھی کی یہ امت ماضی کا ایک عبرت آموز قصہ بن چکی ہوتی اور اس آب حیات سے دنیا ہمیشہ کے لئے محروم ہو چکی ہوتی۔لیکن جیسا کہ ازل سے مقدر تھا آخری زمانہ میں اسلام کو ایک نئی اور پر شوکت زندگی عطا ہونی تھی اور ادیان باطلہ پر ایک عالمگیر غلبہ کی بنیاد مسیح محمدی کے ہاتھوں رکھی جانی تھی۔پس خوشا وہ وقت کہ جب قادیان کی گمنام بستی میں اسلام کی تعمیر نو کی پہلی اینٹ رکھی گئی اور اس وقت سے آج تک ہر روز یہ عمارت اپنی تکمیل کی نئی اور بلند تر منازل کی طرف اٹھائی جارہی ہے۔وہ کھویا ہوا نظام خلافت جو اسلام کے استحکام اور تمکنت کے لئے بمنزلہ جان کے تھا پھر سے مسلمانوں کو عطا ہو چکا ہے اور زمین کے کناروں تک قوموں نے اس کے فیض سے برکت پائی ہے۔پس اے مسلمانان عالم ! احمدیت کو آپ کا انتظار ہے! کب آپ دین محمد کے احیاء کی خاطر، اس عظیم الشان نظام میں شامل ہوں گے اور ان قربانیوں کی لذت سے حصہ پائیں گے جو آج خدام احمدیت کے لئے مخصوص ہو چکی ہیں۔احمدیت کو آپ کا انتظار ہے کیونکہ آپ کی شمولیت سے دین اسلام کو تقویت نصیب ہوگی اور اسلام کا وہ عظیم سمندر جو آج قطرہ قطرہ دنیا کی خشنگیوں میں بکھرا پڑا ہے، ایک بار پھر مجمع ہو کر ایک بحر بے پایاں میں تبدیل ہو جائے گا۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کوئی روحانی نظام خواہ کیسا ہی کامل اور نافع الناس کیوں نہ ہو اس وقت تک کامیابی سے نہیں چل سکتا جب تک قربانیوں کے خون سے اس کی آبیاری نہ کی جائے۔اسلام کا اکمل نظام بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں قربانیوں کا خون پی کر پنپا تھا۔بنی نوع انسان کو ہدایت اور کامیابی کی راہوں کی طرف بلانا کوئی بازیچہ اطفال نہیں ، دنیا