خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 10

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 10 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء چندہ، نہ بجٹ، نہ رسید بک، نہ روز نامچہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے معلم کے جانے کے بعد یہ سب کام مکمل ہوا، جماعت کی کیفیت بدل گئی اور اب اس جماعت کی آخری رپورٹ یہ ہے جماعت کا ایک با قاعدہ وجود بن چکا ہے، چندہ ادا کیا جاتا ہے، پانچوں نمازیں باجماعت بلکہ تہجد تک کی نماز بھی با جماعت ہوتی ہے اور اس میں اکثر ، وہ چھوٹی سی جماعت ہے پندرہ افراد کی، تو اس میں اکثر چار افراد شریک ہوتے ہیں۔تو دیکھئے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کے ایک معمولی کم تعلیم کے معلم نے خدا کے فضل سے کیسی تبدیلی پیدا کی ! در اصل یہ تبدیلی اس نے نہیں کی بلکہ اس خدائے علیم و حکیم اور قادر مطلق نے کی جس کے ایماء پر یہ تحریک جاری کی گئی تھی۔اور ایک سیکرٹری مال نے ابھی کچھ ہی دن ہوئے مجھ سے ذکر کیا کہ وقف جدید کا معلم جب وہاں مقرر ہوا تھا تو اس سے پہلے اس جماعت کا یہ حال تھا کہ باوجود ہزار کوشش کے وہاں سالانہ ایک ہزار سے زیادہ بجٹ نہیں ہوا تھا لیکن اس دو سال کے اندراندر ہی اس جماعت کا بجٹ پانچ ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔تو دیکھئے آپ کے چندے بھی بڑھ جائیں گے آپ کی اخلاقی حالت بھی درست ہو جائے گی۔دراصل ہماری جماعت دیہاتی جماعت ہے اور دیہاتی جماعتوں کی تربیت پر ہماری ترقی منحصر ہے۔ہماری شہری جماعتیں بہت ہی تھوڑی ہیں نسبت کے لحاظ سے اور جب تک ہم دیہاتی جماعتوں کی طرف توجہ نہ کریں گے، جب تک ہم اپنا رخ خاص طور پر دیہات کی طرف نہیں پھیریں گے اس وقت تک ہم حقیقت میں اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکتے اور میں تو یہ کہوں گا کہ ڈر ہے کہ کہیں وقت سے پہلے تنزل نہ شروع ہو جائے خدا تعالیٰ جس سے ہمیں محفوظ رکھے۔تو ہم اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکتے جس رفتار سے ترقی ہمارے لئے ضروری ہے اب دیکھیں ہماری رفتار کیا ہے؟ ہمارے حالات کیا ہیں؟ کام ہمیں کیا کرنا ہے؟ یہ چیزیں ایک اور ایک دو کی طرح غور کرنے کے لائق ہیں اور نتائج بھی ایک اور ایک دو ہی کی طرح نکلتے ہیں۔ہماری مثال یا ہمارے بعض حصوں کی مثال، یوں کہنا چاہئے تو ایسی ہو گئی ہے جیسے کوئی چین کے سفر کا ارادہ کرے اور پیدل نکلے اور گھر سے دو ہی قدم جائے اور تھکے اور ماندہ ہو جائے اور لیٹ جائے اور شاید یہ خیال کرے کہ لوگ آئیں گے اور اسے دبائیں گے کیونکہ بہت تھک گیا ہے اور اس نے بہت کام کیا ہے۔ایک ایسا شخص اگر چین پہنچ سکتا ہے تو ہم بھی ان مقامات کو حاصل کر لیں گے جن مقامات کو حاصل کرنا