خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 126
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 126 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟ ۷۶۹۱ء سیکھنے اور دین پر عمل پیرا ہونے کی مشق کر رہے ہیں۔خدام الاحمدیہ ایک خدام الاحمدیہ کی تنظیم ہے جو ان نوجوانوں کے لئے وجود میں آئی ہے جو طفولیت سے عہد جوانی میں داخل ہورہے ہوں اور پھر چالیس سال کی عمر تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔اس تنظیم کے زیر انتظام نوجوان گرم خون اور بلند ولولوں کے ساتھ خدمت دین میں مصروف ہیں۔یہ مجلس ان کے سامنے خدمت دین اور خدمت خلق کے نئے نئے پروگرام رکھتی ہے۔بہتر رنگ میں اپنے رب کی عبادت کرنے کے درس دیتی ہے اور مخلوق خدا کی خدمت اور بہبودی کی راہیں ان پر کھولتی ہے۔یہ مجلس ان نوجوانوں کی طرف خصوصی توجہ دیتی ہے جو اطفال الاحمدیہ کے تربیتی دائرہ سے کما حقہ مستفید نہ ہوئے ہوں اور عہد جوانی میں ان کی تربیت کرنے کے خصوصی پروگرام بناتی ہے۔مختلف مقامات کے علاوہ حلقہ وار ضلع وار اور علاقہ وار تربیتی اجتماعات کا انعقاد کرتی ہے اور ان تمام مقاصد کو پورا کرنے میں مرکزی انجمنوں کا ہاتھ بٹاتی ہے جن مقاصد کے حصول کے لئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔انصار الله احمدیت حقیقی اسلام ہے اور اسلام میں موت سے قبل ریٹائر ہونے کا کوئی تصور نہیں۔ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی استعدادوں اور خدا داد قوتوں کے مطابق حسب توفیق اللہ تعالیٰ کی راہ میں تادم آخر کوشش کرتا رہے۔پس احمدیت بھی اس تصور کی عملی تصویر پیش کرتی ہے اور اس کے تربیتی حلقے زندگی کے سب دائروں پر محیط ہیں۔جب احمدی نوجوان اپنی عمر کے چالیس سال پورے کر چکتے ہیں تو ان پر مجلس انصار اللہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس مجلس میں داخل ہو کر پھر زندگی کے آخری سانس تک وہ اسی مجلسی دائرہ میں رہتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر ذہنی اور عملی پختگی کے ساتھ خدمت دین میں مصروف ہو جاتے ہیں۔یہ مجلس ان کے اعمال کو بہتر سے بہتر کرنے میں شب و روز کوشاں رہتی ہے اور اس دن سے پہلے کہ وہ اپنے رب کے حضور پیش ہوں، ہر گھڑی بلند تر روحانی درجات کے حصول میں ان کی مدد کرتی ہے۔پس نظام احمدیت میں یہ مجالس احمدیت کے مرکزی تربیتی نظام کو مزید تقویت دے رہی