خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 106

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 106 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟۷۶۹۱ء یعنی اے محمد ! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں کہ میں کہاں ہوں تو اعلان کر دے کہ میں قریب ہوں۔جب کوئی خلوص قلب کے ساتھ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ بھی وصل الہی کے حصول کی شرائط کو پورا کریں اور میرے احکامات پر عمل کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔پھر اس مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ ایک اور مقام پر ان الفاظ میں بیان فرمایا: فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الصحف : 11) یعنی جو کوئی بھی اپنے رب کی ملاقات کا متمنی ہے اسے چاہئے کہ نیک اعمال بجالائے اور اپنے رب کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہرائے۔بالفاظ دیگر تو حید خالص اور عمل صالح کی علامت ہی یہ قرار دی کہ انسان اسی دنیا میں اپنے رب کو پالےاور اس کی لقاء سے مشرف ہو جاۓ۔پھر ایک اور مقام پر ملائکہ کے ذریعہ اپنے بندوں سے ہم کلامی کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ( حم السجدة : ۳۱ - ۳۲) یعنی یقیناً وہ لوگ جو کمال اخلاص اور صداقت قلب سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر دنیا کی مخالفتوں کے باوجود اپنے اس دعوئی میں استقامت دکھاتے ہیں ، ان باوفا بندوں پر کثرت سے فرشتے یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں کہ تم نہ خوف زدہ ہو، نہ غمگین ہو۔ہم اس دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔پس اس جنت کی بشارت سے خوش ہو جاؤ جس کا وعدہ تمہیں دیا جاتا ہے۔لیکن افسوس کہ جب مسلمان تنزل اور مایوسی کے دور میں داخل ہوئے تو قرآن کریم کے