خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 105
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 105 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء بھر دیا جن کا عطا ہونا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ مقدر تھا۔احمدیت کبھی تو وہ باران رحمت بن کر برسی جس سے لاکھوں سعید فطرت تشنہ روحوں کی پیاس بجھی اور مجھے ہوئے نیم مردہ دلوں کونئی زندگی عطا ہوئی اور کبھی وہ آگ بن کر اتری جس نے دشمنان اسلام کے بدارا دوں اور مہلک منصوبوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔کبھی تو دم عیسی بن کر مردہ روحوں کو جلا بخشتی رہی اور کبھی عصائے موسیٰ کی صورت میں ان خداؤں کو لقمہ اجل بنایا جو محض واہمہ اور تصور کی پیداوار تھے۔احمدیت نے تو حید کو قائم کیا اور شرک کی بیخ کنی کی۔احمدیت نے خدائے واحد پر ایک سچا اور زندہ ایمان دنیا کو بخشا اور مخلوق کے لئے خالق کی لقا کے سامان کئے۔احمدیت نے ان فاسد عقائد سے اسلام کی تطہیر کی جو رس چوسنے والی بیلوں کی طرح اسلام کے شجرہ طیبہ پر پنجے ڈالے ہوئے تھے اور ان بد رسومات اور بدعات سے مسلمانوں کو نجات عطا کی جن کا حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں کوئی وجود نہ تھا۔اسلام کے بنیادی عقائد میں بعض خطر ناک تبدیلیاں اور ان کی اصلاح یہاں تفصیل کے ساتھ ان تمام بد اعتقادیوں پر بحث کرنے کی گنجائش تو نہیں جو رفتہ رفتہ مسلمانوں میں جگہ پاگئیں اور جن کی احمدیت نے آکر اصلاح کی مگر نمونہ کے طور پر بعض ایسی خرابیوں کا ذکر کرتا ہوں، جو اسلام کے بنیادی اعتقادات سے تعلق رکھتی ہیں۔خدا تعالیٰ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کے تصور کو لے لیجئے جو روحانیت کا مرکزی نقطہ ہے اور جس پر یقین کامل کے بغیر مذہب بے حقیقت ہو کر رہ جاتا ہے۔اسلام نے خدا تعالیٰ کو ایک ایسی زندہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جس کا دیدار اسی دنیا میں ممکن ہے اور دعوی کیا کہ خدا تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی پکار کوسنتا ہی نہیں اس کا جواب بھی دیتا ہے بشرطیکہ وہ کمال خلوص کے ساتھ اس کو پکار ہیں۔چنانچہ فرمایا: (البقرة : ۱۸۷)